حیاتِ نور

by Other Authors

Page 505 of 831

حیاتِ نور — Page 505

۵۰۱ ـور دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھ رہے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں مانگ رہے تھے۔فروری 191ء میں ایک رویا دیکھی کہ ایک بڑا حل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے۔اور اس میں ہزاروں آدمی پچھیروں کا کام کر رہے ہیں۔اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے۔اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں۔تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے ) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں۔اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے۔اور وسیع کیا جائے۔ایک عجیب بات تھی کہ سب میتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا۔اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ ہتھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے۔بلکہ فرشتے ہی خدا تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ رویا بہت اہم امور پر مشتمل تھی۔اس میں جہاں یہ بتایا گیا تھا کہ جماعت کے بعض پرانے ممبر جماعت سے الگ کئے جائیں گے۔وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان پرانے ممبروں کے الگ ہو جانے سے جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔بلکہ فرشتے اور لوگوں کے دلوں میں تحریک کر کے انہیں احمدیت کی طرف کھینچ لائیں گے۔جس سے ظاہر ہو گا کہ جماعت کی ترقی کا تعلق اتنا احباب جماعت کی کوششوں سے نہیں۔جتنا تصرفات الہیہ اور اس کے افضال سے ہے۔یہ رویا آپنے حضرت خلیفہ المسیح اول کو سنائی۔اور پھر اسی سے تحریک پاکر حضور کی اجازت سے ایک انجمن بنائی۔جس کا نام انصاراللہ رکھا گیا۔انجمن کی شرائط اس انجمن کا ممبر بننے کے لئے پہلی شرط یہ مقرر کی گئی کہ جو شخص اس کا نمبر بنا چا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سات دن متواتر استخارہ کرے۔باقی خاص خاص شرائط یہ تھیں۔-۲ تبلیغ سلسلہ عالیہ احمدیہ۔حضرت خلیفہ المسیح کی فرمانبرداری۔