حیاتِ نور — Page 454
۴۵۰ حي سکتے تھے اور رپورٹ چھپ کر ان کے پاس پہنچ سکتی تھی۔میرے اندازہ میں جو آدمی یہاں آئے تین ہزار سے زیادہ نہ تھے پھر جو لوگ عمائد تھے وہ اگر مجھ سے علیحدہ ملتے تو میں ان کے لئے دعائیں کرتا۔انہیں کچھ نصیحتیں کرتا مگر افسوس کہ اکثر لوگ اس وقت آئے کہ لوجی ! السلام علیکم یکہ تیار ہے۔تم یا درکھو۔میں ایسے میلوں سے سخت متنفر ہوں۔میں ایسے مجمعوں کو جن میں روحانی تذکرہ نہ ہو۔حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔یہ روپیہ تو وہ منی آرڈر کر کے بھیج سکتے تھے بلکہ اس طرح بہت سا خرچ جو مہمانداری پر ہوا وہ بھی محفوظ رہتا۔یہاں کے دکانداروں نے بھی افسوس دنیا کی طرف توجہ کی اور کہا کہ جلسہ باہر نہ ہو۔شہر میں ہو۔ہماری چیزیں بک جاویں۔میں ایسے اجتماع اور ایسے روپئے کو جو دنیا کے لئے ہو۔حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو سن رہا ہے وہ یا در کھے اور دوسروں تک یہ بات پہنچا دے۔میں اسی غم میں پکھل کر بیمار بھی ہو گیا۔کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے جو تمہاری باہر کی جماعتوں کے سیکریٹری اور عمائد تھے وہ مجھ سے علیحدہ ملتے۔میں ان کو بڑی نیکیاں سکھاتا اور بڑی اچھی باتیں بتاتا۔لیکن افسوس کہ ہماری صدر انجمن نے بھی ان کو یہ بات نہ بتائی اس لئے مجھ کو ان سے بھی رنج ہے۔کیا آیا کتنے روپئے ہوئے ہم کو اس سے کچھ بھی غرض نہیں۔ہم کو تو صرف خدا چاہئے۔مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا جمع ہوا۔کیا آیا۔مجھ کو اس کی مطلق پروا نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو مقدم کرو۔ہماری کوششیں اللہ کے لئے ہوں۔اگر یہ نہ ہو تو ہائی سکول کیا حقیقت رکھتا ہے اور اس کی عمارتیں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔ہمیں تو ہمارا مولیٰ چاہئے۔اپنے احباب کو خط لکھو اور ان کو تنبیہ کرو۔میں تو لاہور اور امرتسر کے لوگوں کا بھی منتظر رہا کہ وہ مجھ سے کیا سیکھتے ہیں۔لیکن ان میں سے بھی کوئی نہ آیا۔میں چاہتا تھا کہ لوگ میری زندگی میں متقی اور پرہیز گار بنیں اور دنیا اور اسکی رسموں کی طرف کم توجہ کریں۔۳۷ حضرت حکیم فنی م فضل الدین صاحب بھیروی کی وفات ، ۱/۸ اپریل ۱۹۱۰ء ، حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیر دی جو حضرت خلیفہ المسح الاول کے بچپن کے دوست تھے اور اس دوستی کو انہوں نے آخر دم تک نہایت صدق، اخلاص اور یکرنگی کے ساتھ نباہا۔آپ جب تک بھیرہ ــور