حیاتِ نور — Page 455
ـور ۴۵۱ میں رہے ہمیشہ خدمت خلق میں مصروف رہے۔قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا آپ کی غذا تھا۔آخری عمر میں ہجرت کر کے قادیان آگئے اور قادیان میں بھی درس تدریس کا سلسلہ جاری رہا۔ایک خاص خوبی ان میں یہ تھی کہ دنیوی مال و متاع سے بالکل محبت نہیں کرتے تھے۔بھیرہ میں جس قدر آپ کی جائیداد تھی ، ایک بڑی وسیع اور شاندار حویلی ، ایک قطعہ زمین جو شہر سے باہر تھا، ایک کنواں یہ سب جائیداد جو ہزار ہا روپیہ کی تھی ، آپ نے اپنی زندگی میں صدر انجمن کے نام اپنی وصیت میں ہبہ کر دی تھی اور با قاعدہ رجسٹری کروادی تھی۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء قادیان میں ایک بڑی مدت تک مطبع ضیاء الاسلام کو چلاتے رہے۔مدرسہ کی ابتدائی حالت میں اس کے سپرنٹنڈنٹ رہے کتب خانہ حضرت مسیح موعود کے مہتمم رہے۔بالآ خر لنگر خانہ کے افسر مقرر ہوئے اور بیماری کے ایام میں بھی اس کام کو نہایت محنت اور توجہ سے سر انجام دیتے رہے۔آپ کو سوزش پیشاب اور در دمثانہ کی تکلیف تھی۔تکلیف بڑھ جانے پر لاہور بھجوائے گئے۔وہاں آپریشن سے پتھری نکالی گئی۔ضعف بہت تھا اور آخر ذات الجنب سے وفات پائی۔فانا للہ و انا الیہ راجعون۔وفات را پریل شاء کو ہوئی جنازہ قادیان پہنچایا گیا اور 9 اپریل 1910ء کی صبح کو بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔اللہم اغفرہ وارحمه حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب فتح اسلام مطبوعہ ۱۸۹۰ء میں آپ کی تعریف فرماتے ہوئے لکھا ہے: حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے ہیں۔میں اس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔وہ میرے بچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔بعد اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجھے توجہ دی اور اپنے الہامات خاصہ سے امیدیں دلائیں۔میرے یہ عزیز بھائی بغیر اس کے کہ میں ان سے ذکر کرتا۔خود مجھے اس اشتہار کے لکھنے کے محرک ہوئے۔اور اس کے اخراجات کے واسطے اپنی طرف سے سورو پیہ دیا۔میں ان کی فراست ایمانی سے متعجب ہوں کہ ان کے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو گیا۔وہ ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں اور کئی یہ وہی حویلی ہے جو آپ نے ایک شیعہ دوست سے خریدی تھی اور جب انجمن نے اسے فروخت کرنا چاہا تو اس شیعہ دوست نے حضرت خلیفہ اسیح " سے التجا کی کہ میں نے حالات سے مجبور ہو کر اسے ستے داموں فروخت کیا تھا۔اب مجھے ہی کچھ رعایت سے دیدی جائے۔مگر انجمن کے بعض ممبروں نے اس معاملہ میں آپ کی مخالفت کی تھی۔(مؤلف)