حیاتِ نور

by Other Authors

Page 444 of 831

حیاتِ نور — Page 444

واقفین زندگی متخلص واعظین اور باخدا علماء کے حصول کی ترب اگست ۱۹۰۹ء اسی سال کا واقعہ ہے کہ مدیر الحکم ایک سفر پر جارہے تھے وہ اجازت کے لئے حاضر ہوئے۔اور عرض کیا کہ مقامی جماعت کے نام کوئی پیغام مرحمت فرمائیں۔حضور نے فرمایا: ” میرا پیغام تو ایک ہی ہے۔خدا سے ڈر اور پھر کچھ کر۔اسی سلسلہ میں فرمایا: مجھے تو عملی حالت کی اصلاح کی ضرورت ہے۔بس یہی پیغام ہے جس کو چاہو دے دو۔بالآ خر آپ نے مندرجہ ذیل الفاظ لکھ کر عنایت فرمائے جو جماعت کے لئے ایک مستقل لائحہ عمل۔کی حیثیت رکھتے ہیں۔فرمایا: قوم میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے مطلوب ہیں جن کو دنیا کی پروا بھی نہ ہو۔جب مقابلہ دین و دنیا کا آکر پڑے۔باہمت واعظ مطلوب ہیں جو اخلاص وصواب سے وعظ کریں، عاقبت اندیش صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے۔دعاؤں کے قائل اور علم پر نہ گھمنڈ کرنے والے علماء مطلوب ہیں جن کو فکر لگی ہو کہ اور نہ کیا کیا جائے کہ اللہ راضی ہو جائے اور ایسے اکسیر لوگ کم نظر آتے ہیں۔فما اشکوا الا الی اللہ ۲۵ بارش بند ہونے کی دُعا محترم چوہدری غلام محمد صاحب بی اے کا بیان ہے کہ 1909ء کے موسم برسات میں ایک دفعہ لگا تار آٹھ روز بارش ہوتی رہی۔جس سے قادیان کے بہت سے مکانات گر گئے۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم نے قادیان سے باہرنی کوٹھی تعمیر کی تھی وہ بھی گر گئی۔آٹھویں یا نویں دن حضرت خلیفہ اسیج اول نے ظہر کی نماز کے بعد فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں آر سب لوگ آمین کہیں۔دعا کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں نے آج وہ دعا کی ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ کی تھی۔دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہو رہی تھی اس کے بعد بارش بند ہوگئی