حیاتِ نور — Page 443
ـور ٤٣٩ والوں نے شرارت کی۔اکثر نمازیں مکان پر پڑھتا تھا اور مسجد کو شرارت گاہ نہ بنایا۔مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ - بروقت سامنے رہتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگ زنا کرنے مسجد میں نہیں جاتے تھے۔لڑنے کو نہ جاتے تھے۔بار باران کو لوگوں نے مارا۔چوری کے الزام لگائے۔ہم ہمیشہ صبر سکھاتے رہے جب شرارت حد سے بڑھنے لگی تو شرارت کے خوف سے اپنی مسجد بنالی اور لکھ دیا کہ کسی کو مت روکو۔آپ نے اس کا نام شرارت رکھا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی لڑکیاں ہماری لڑکیاں ہیں۔ہمیں پردہ کا خود خیال ہے۔آپ ہرگز فکر نہ فرما دیں۔یہ مسجد ضرار و تفریق کے لئے نہیں بلکہ ضرر سے صلح کے رکھنے کے واسطے آخر ائیل تجویز کی ہے۔آپ نے ہمارا ایک مشترکہ مکان بدوں ہماری اطلاع کے با اینکہ ہم بحد اللہ مفلس نہیں تھے، خرید فرمایا۔کیا یہ صلح ہے اور شرارت سے پر نہیں۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔آپ خوب غور کریں۔ہم نے مسجد کا راستہ ایسا نہیں رکھا کہ بے پردگی ہو۔ہاں آپ ہمیں بتا دیں کہ ہم کیا کریں۔مسجد تو آپ لوگوں اور آپ کے فتووں نے ہم سے لی۔اب ہم اپنا مکان مسجد بنا دیں تو ہم شریر ! آہ! یہ اسلام ہے۔سوچو اور کسی بھلے مانس مسلمان سے مشورہ فرما کر جواب دو۔باقی رہی برادری۔سو آپ خود اس کا انصاف فرما دیں۔اتنا کہوں گا کہ آپ قریشی مانے ہوئے ہیں۔اور ہم جو ہیں سو ہیں۔اس پر بھی انصاف آپ پر ہے۔مولوی صاحب ! اتنابز اسہ منزلہ عظیم الشان باپ دادا کا مکان کوئی ضائع کرتا ہے شرارت سے بچنے کے لئے جب کوئی راہ امن اور ضرر اور تفریق سے بچنے کے لئے نظر نہیں آئی تو یہ تجویز سمجھ میں آئی۔آپ چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت متفرق ہو جائے۔گویا اس محلہ میں ہم لوگ اللہ کا نام بھی نہ لیں۔اللہ۔اللہ ! ثم اللہ اللہ ! کچھ خوف بھی ہے اور پھر ہم شریر۔فاللہ خیر حافظاً وھو ارحم الراحمین۔میں کیا عرض کروں آپ کی عمر میرے سے زیادہ ہے۔آپ کے بھائی آپ سے چھوٹے تھے۔وہ فوت ہو گئے۔میں نے مرنا ہے۔یہ مکان اور مکانات ہمارے ساتھ کوئی نہ جاوے گا“۔اس چٹھی سے علاوہ مسجد کے اور بھی بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے مگر خوف طوالت ان کے ذکر سے اجتناب کرتے ہوئے ہم انہیں احباب کے غور و فکر پر چھوڑتے ہیں۔