حیاتِ نور

by Other Authors

Page 445 of 831

حیاتِ نور — Page 445

ـور ام اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔" خان صاحب حضرت منشی فرزند علی خان کی جماعت میں شمولیت ۳۱ جولائی ۱۹۰۹ء انجمن احمد یہ فیروز پور نے ۳۱ جولائی اور یکم اگست ۱۹۰۹ ء کو دو روز کے لئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ کیا۔جس میں صدارت کے فرائض خاں صاحب منشی فرزند علی صاحب نے سرانجام دیئے۔اس جلسہ میں آپ نے اعلان کیا کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود و مہدی معہود جان کر جماعت احمد یہ میں داخل ہوتا ہوں“۔حضرت خانصاحب مرحوم کا نام آنے پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔چونکہ اس واقعہ کا بھی سلسلہ کی تاریخ سے تعلق ہے اس لئے اس کا یہاں ذکر کر دینا نہایت مناسب اور ضروری ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ ۲۹ / جولائی ۱۹۶۲ء کو اخویم محترم ملک عبد اللطیف صاحب سشکوری سیکرٹری اصلاح و ارشاد جماعت احمد یہ لاہور اور خاکسار تربیتی واصلاحی دورہ پر تصور گئے۔وہاں ایک احمدی بزرگ بابا امیر الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ہمارے دریافت کرنے پر فرمایا کہ " میں فیروز پور کا باشندہ ہوں ۱۸۸۲ء میں میری پیدائش ہوئی۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی سے خائف ہو کر ڈپٹی عبد الله انتم مارا مارا پھر رہا تھا۔آخر میں اپنے داماد میاد اس (عیسائی) مہتم انہار کے پاس فیروز پور آیا۔میرا بڑا بھائی امام دین میاد اس کی کوٹھی میں مالی کے طور پر کام کرتا تھا۔اور میں اس کی روٹی لے کر جایا کرتا تھا اور اس سے چوری چھپے کوٹھی کے ملازموں کے پاس جا کر حقہ پیا کرتا تھا۔ان ایام میں روزانہ اندر سے رونے اور چیخنے کی آواز میں آیا کرتی تھیں کہ ہائے مر گیا۔مرزے نے مجھے ہلاک کرنے کے لئے میرے پیچھے سانپ اور بچھو چھوڑ رکھے ہیں تلواروں والے میرے سر پر کھڑے رہتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔باہر پولیس کا پیرہ رہتا تھا۔میں نے کوٹھی کے پہریداروں سے پوچھا کہ اندر کون چلاتا ہے۔انہوں نے کہا اندر میاد اس کا خسر ڈپٹی عبد اللہ آتھم ہے۔اس کا پٹی کے مرزوں کے ساتھ مقابلہ ہوا ہے۔اور یہ پیسٹر (زخمی ) ہو کر آیا۔(نوٹ) از مؤلف پٹی کے مرزوں کا ذکر ان ملازموں نے اس لئے کیا کہ پٹی چونکہ مغلوں کا مشہور قصبہ تھا اور وہ لوگ ان پڑھ تھے۔اس لئے وہ یہی سمجھتے تھے کہ مرزے صرف پٹی ہی میں رہتے ہیں۔بابا امیر الدین صاحب نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے کئی سال بعد جب حضرت مولوی فرزند علی خاں صاحب حج کے لئے جانے لگے تو مجھے حضرت اقدس کی کتاب " انجام آتھم مطالعہ کے لئے دی اور یہ بھی کہا کہ میں خانہ کعبہ میں آپ کے لئے دعا بھی کروں گا۔جب میں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم والا واقعہ کتاب مذکور میں پڑھا تو مجھ پر بہت اثر ہوا کیونکہ میں اس واقعہ کا عینی شاہد تھا۔گو اس وقت مجھے اس کی حقیقت کا پورا علم نہ تھا۔مگر جب جوانی کی عمر میں یہ واقعہ کتاب میں پڑھا تو حضرت اقدس کی صداقت گھر کر گئی اور حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کے ذریعہ 1919 ء میں سفیداں ریاست جیند کے مقام پر بیعت کا خط لکھ دیا۔فالحمد للہ علی ذالک ا با امیر الدین صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ فروز پور میں جماعت احمدیہ کے پاس جو مسجد تھی وہ بھی میرے تایا فیض بخش کے لڑ کے منفی کریم اپنی میونسپل کمشنر نے دی تھی۔اس کا بھائی فضل الہی عیسائی ہو گیا تھا اور احمدی چونکہ عیسائیوں کا خوب مقابلہ کرتے تھے۔اس لئے حضرت خانصاحب منشی فرزند علی صاحب کو اس نے اپنی مسجد دیدی تھی۔اور سرکاری طور پر بھی جماعت احمدیہ کے نام منتقل کروادی تھی۔فیروز پور کے مولویوں نے اسے بہت دورغلایا تھا۔مگر اس نے ان کی ایک نہ سنی (نوٹ۔بابا امیر الدین صاحب کے اس بیان کی تصدیق اخبار بدر پر چہ ۰۹-۱۱-۱۸ صلحیہ سے بھی ہوتی ہے۔مؤلف )