حیاتِ نور — Page 413
۴۱۰ مشعل راہ ہیں جس طرح کہ اس زمانہ میں تھیں لہذا احمدی بچوں کو چاہئے کہ انہیں ہمیشہ یادرکھیں۔لیکچر یغام صلح ۲۱ / جون ۱۹۰۸ء قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ ہندوستان کی دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود نے ۲۵ مئی شو کو یعنی اپنی وفات سے ایک دن پہلے پیغام صلح نام سے ایک نہایت ہی قیمتی رسالہ تصنیف فرمایا تھا۔چونکہ حضور کی زندگی میں وہ سنایا نہ جا سکا اس لئے ۲۱ جون شدہ کو ے بجے صبح محترم جناب خواجہ کمال الدین صاحب وکیل چیف کورٹ پنجاب نے حضرت خلیفة المسیح الاول کی اجازت سے بصدارت جسٹس پر تول چندر چھر جی صاحب حج چیفکورٹ کئی ہزار کے مجمع میں پنجاب یونیورسٹی ہال میں سنایا۔اس مضمون سے سامعین اس قدر متاثر ہوئے کہ قریب تھا کہ فریقین کے ذمہ دار اصحاب حضور کی بیان فرمودہ شرائط مندرجہ رسالہ "پیغام صلح پر دستخط کر دیتے مگر آریہ صاحبان نے اس تجویز کو اپنے مقصد کے خلاف سمجھ کر دستخطوں کو کسی اور وقت پر ملتوی کرا دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ منصوبہ نا مکمل رہ گیا۔تیاری واعظین سے متعلق حضرت اقدس کی ایک خواہش کی تکمیل ۲۳ جولائی ۱۹۰۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی یہ زبر دست خواہش تھی کہ ہماری جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی اہل فضل اور اہل کمال ہونا چاہئے کہ اس سلسلہ اور اس دھوئی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین تو یہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو اور مخالفین پر ہر ایک مجلس میں بوجہ احسن اتمام حجت کر سکے اور ان کے مفتریا نہ اعتراضات کا جواب دے سکے اور نیز عیسائیوں اور آریوں کے وساوس شائع کردہ سے ہر ایک طالب حق کو نجات دے سکے اور دین اسلام کی حقیقت کمال اور اتم طور پر ذہن نشین کر سکے۔سے ان تمام امور کی سر انجام دہی کے لئے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جماعت کے اہل علم ، زیرک اور دانشمند لوگوں کو چاہئے کہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۸ء تک حضور کی کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جاویں۔اور دسمبر کی تعطیلات میں قادیان پہنچ کر تحریری امتحان دیں اور ایسے واعظین ہر سال تیار ہوتے رہیں تا ایک کثیر جماعت تیار ہو جائے۔اس خواہش پر مشتمل اشتہار حضور نے 9 ستمبر ۱۹ ء کو شائع فرمایا تھا مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی زندگی میں کسی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو سکا اور اگر ہوا ہوتو کم از کم تحریری ور