حیاتِ نور

by Other Authors

Page 407 of 831

حیاتِ نور — Page 407

۴۰۴ خطرہ عظیم الشان حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ تیری قوم نے مقدس زمین کو فتح کر لینا ہے۔تم بے شک جاؤ۔لیکن قوم نے نافرمانی کی۔کیا نتیجہ ہوا۔۴۰ برس ڈھیل دی گئی اور ان میں حضرت موسی بھی فوت ہو گئے۔مجھے یہ ڈر ہے کہ حضرت صاحب سے بھی اللہ تعالیٰ نے وعدے کئے ہیں۔تمہارے عملوں نے اس کو پیچھے رکھا ہوا ہے۔نوٹ تمیں برس کے بعد انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ مجد د یعنی موعود ( قدرت ثانیہ ) ظاہر ہوگا۔نوٹ انصار کی ذراسی گستاخی سے حضور نبی کریم نے فرمایا کہ قیامت تک تم پر سلطنت حرام ہے۔تم بھی گستاخ ہورہے ہو۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی پیشگوئی کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ تمہیں برس کے بعد انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ مجدد یعنی موعود (قدرت ثانیہ ظاہر ہوگا، اور یہ عجیب بات ہے کہ دسمبر ۱۹۱۲ ء میں یہ الفاظ بیان فرمائے۔گویا ۱۹۱۳ تو گزر گیا اور ۱۹۳۳ء تک میں برس پورے ہو گئے۔اس کے بعد ۱۹۴۴ء کے شروع میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے موعود خلیفہ مصلح موعود اور پسر موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہئے کہ ۱۹۴۴ء سے قبل حضور مصلح موعود نہیں تھے۔مصلح موعود تو آپ شروع ہی سے تھے اور تحریک جدید کی جو آپ نے بنیاد ڈالی تو یہ بھی مصلح موعود ہونے کی حیثیت میں ہی ڈالی۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الاول اور جماعت کے دیگر کئی ایک بزرگوں پر اس امر کا انکشاف بھی ہو گیا تھا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں لیکن آپ کو جب تک اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ اطلاع نہیں دی آپ نے خود اعلان نہیں فرمایا۔اس امر کا ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بعض کو تاہ اندیش لوگوں کی جانب سے یہ اعتراض ہوا ہے کہ ۱۹۴۴ء کے بعد آپ کے کارنامے اتنے اہم نہیں جتنے پہلے کے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی ساری زندگی ہی عظیم الشان کارناموں سے بھری پڑی ہے۔بچپن سے ہی آپ نے دینی کاموں میں حصہ لینا شروع فرمایا اور اب تک آپ کی زندگی کا لحہ لمحہ دینی کاموں میں صرف ہو رہا ہے۔دعوی مصلح موعود کے