حیاتِ نور — Page 408
۴۰۵ بعد تحریک جدید کا کام بھی پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا۔گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آپ تیز چل رہے تھے مگر بعد میں دوڑنا شروع کر دیا۔پھر قرآن مجید کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔متعد دنئی تعظیم الشان مساجد یورپ اور دیگر براعظموں میں تیار ہوئیں۔تقسیم برصغیر کے ہولناک خطرات و فسادات میں قادیان سے جماعت کو صحیح و سالم نکال کر پاکستان میں لانا اور ربوہ ایسے عظیم الشان قصبہ کی تعمیر و آبادی آپ ہی کا عدیم النظیر کارنامہ ہے۔پھر تفسیر کبیر کی کئی جلد میں شائع ہوئیں۔تفسیر صغیر تیار ہوئی وغیرہ وغیرہ۔کیا یہ کام اس امر کی ضمانت نہیں کہ آپ ہی موعود قدرت ثانیہ ہیں ؟ حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الاول کے بعض اشارات اور بشارات درج کرنے کے بعد ایک بات کی ذرا وضاحت کر دینا ضروری ہے اور وہ ہے " قابل یا نکتہ۔جس میں آپ نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔اس کے متعلق محترم مولوی محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغہ زود نویسی ربوہ نے بیان فرمایا کہ انہوں نے خود حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی زبان فیض ترجمان سے ایک مرتبہ سنا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ٹھیک بائیس سال کی عمر میں خلیفہ ہوں گے اور اٹھتر برس کی عمر تک خلافت کریں گے بلکہ حضرت خلیفہ اول یہ بتانا چاہتے تھے کہ آپ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کی طرح چھوٹی عمر میں خلیفہ ہوں گے اور ان کی مانند خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبا عرصہ خلافت کریں گے۔دوبارہ زندگی منسوخ شدہ زندگی۔اپریل ۱۹۰۸ء حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے گھوڑے سے گرنے کے بعد صحت یاب ہو جانے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام بھی پورا ہوا۔جو اس واقعہ سے قریباً اڑھائی سال پہلے شائع ہو چکا تھا۔اور وہ تھا دوبارہ زندگی۔منسوخ شده زندگی ظاہر ہے بڑھاپے میں سر پر ایسی شدید چوٹ لگنے کے بعد صحت یاب ہو جانا بظاہر حالات نا ممکن نظر آتا تھا مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ابھی کچھ عرصہ آپ کی زندگی منظور تھی اس لئے آپ کو خارق عادت طور پر شفا عطا کی گئی اور اس سے ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام مذکورۃ الصدر پورا ہوا۔دوسرے ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی وغیرہ کی قسم کے لوگوں کی پیشگوئیاں جھوٹی ثابت ہو گئیں۔تیسرے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو آپ کی سر پرستی میں کام کا اور بھی تجربہ حاصل ہو گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔