حیاتِ نور

by Other Authors

Page 406 of 831

حیاتِ نور — Page 406

ات نـ ـور ۴۰۳ حضرت خلیفہ المسیح الاول نے یکم دسمبر ۱۹۱۲ء کو بعد نماز عصر سورہ اعراف کی آیت وَلَقَدْ اَخَذْنَا الَ فِرْعَوْنَ بالسّيين۔الخ کا درس دیتے ہوئے فرمایا: " جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فتوحات کے وعدے کئے تھے۔لیکن قوم کی نافرمانی کی وجہ سے وہ چالیس برس پیچھے ڈال دیئے گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اللہ تعالٰی نے وعدے کئے ہیں اور ضرور ہے کہ وہ پورے ہوں۔لیکن افسوس ہے کہ تم لوگوں کی گستاخیوں کی وجہ سے ان میں التوا ہو رہا ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ" کے وقت ان وعدوں کے پورا ہونے کا زمانہ چالیس برس پیچھے ڈال دیا گیا۔اسی طرح تمہاری گستاخیوں کی وجہ سے احمدیت کی فتوحات کا زمانہ بھی پیچھے ڈال دیا گیا ہے لیکن آج سے میں سال بعد مظہر قدرت ثانیہ ظاہر ہو گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس بندہ کے ذریعہ اس بند کئے ہوئے دروازہ کو کھولنے کے سامان کر دے گا۔اس موقع پر حضور کے جو الفاظ قلمبند کئے گئے وہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔ہم اور دوسروں میں فرق کسی مجدد نے ۱۳ سو برس سے یہ نہیں کہا کہ مجھے الہام ہوتا ہے مجھے وحی ہوتی ہے۔ہمارے مرزا صاحب کو وحی اور الہام دونوں ہوتے تھے۔پھر نبی کا لفظ کسی پر نہیں آیا۔پھر ایسی کامیابی با وجود اتنی مخالفت کے کسی کو نہیں ہوئی۔