حیاتِ نور

by Other Authors

Page 398 of 831

حیاتِ نور — Page 398

ات لـ سور ۳۹۵ بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح کی بیماری میں ان لوگوں کا رویہ۔نومبر ۱۹۱۰ ء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا بیان ہے کہ 1910ء کے آخری مہینوں میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل" گھوڑے سے گر پڑے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی حتی کہ آپ نے (ڈاکٹر ) مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو اس وقت آپ کے معالج تھے، دریافت کیا کہ میں موت سے نہیں گھبراتا۔آپ بے دھڑک طبی طور پر بتادیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو میں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں۔مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانا اپنے لئے مضر سمجھتے تھے۔آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے اور اگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتادیں گے۔مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے کہ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔میرے نانا صاحب جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب، خواجہ صاحب مولوی صدرالدین صاحب اور ایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔خواجہ صاحب نے ذکر شروع کر دیا۔کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے۔ہم لوگ یہاں ٹھہر تو سکتے نہیں۔لاہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے۔بس اس وقت دو پہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جاوے کہ فتنہ نہ ہو۔اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے۔لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہونے دیں جب تک کہ ہم لاہور سے نہ آ جادیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی۔