حیاتِ نور

by Other Authors

Page 397 of 831

حیاتِ نور — Page 397

٣٩٠ کی تعریف بھی کرتے مگر ساتھ ہی ساتھ کوئی انقص بھی ان کی طرف منسوب کر دیتے۔پھر جو لوگ ہاں میں ہاں ملاتے ان کے سامنے خوب دل کی بھڑاس نکالتے۔انجمن اور خلافت کا جھگڑا تو چل ہی رہا تھا۔اب انہوں نے نبوت اور کفر و اسلام کے مسائل کو بھی ہوا دینی شروع کی۔ادھر غیر احمدیوں میں مقبول ہونے کے لئے یہ ضروری تھا کہ انکے پیچھے نماز بھی پڑھتے کیونکہ جب انسان ایک قدم غلط اُٹھائے تو دوسرا خود بخود اٹھتا ہے مگر یکدم تبدیلی مشکل بھی ہوتی ہے اس لئے شروع شروع میں تو جب لیکچر کے دوران یا معا بعد نماز کا وقت آ جاتا تو بعض اوقات خواجہ صاحب غیر احمدیوں کے اس سوال پر کہ آپ ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے یہ جواب دیتے کہ بھئی ہم تو ایک امام کے تابع ہیں۔آپ یہ سوال ان سے کریں۔کبھی کہہ دیتے کہ اگر آپ لوگ کفر کا فتویٰ واپس لے لیں تو ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہیں۔آہستہ آہستہ جب دیکھا کہ اس طرح تو غیر احمد یوں میں ہر دلعزیزی قائم نہ رہ سکے گی تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ غیر احمدی امام کے پیچھے ممانعت تو عام احمدیوں کے لئے ہے تا وہ دوسروں سے مل کر متاثر نہ ہوں۔میرے جیسے پختہ ایمان آدمی کے لئے تو نہیں۔میں آپ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوں۔ان کی اس قسم کی حرکات کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیر احمد یوں نے احمدیوں کو الگ نماز پڑھنے کی وجہ سے تنگ ظرف اور متعصب کہنا شروع کر دیا اور خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کو وسیع الحوصلہ اور فراخدل! ایک اور کمزوری خواجہ صاحب نے یہ دکھانا شروع کی کہ مضامین تو حضرت اقدس مسیح موعود کی کتابوں میں سے اخذ کر کے بیان کرتے لیکن حضور کا نام نہ لیتے۔ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے علم کلام کو پیش کرنے کے نتیجہ میں داد و تحسین کے نعرے بلند ہونے لازمی تھے لیکن وہ لیکچر خدا تعالیٰ کے ہاں کیسے مقبول ہو سکتے تھے جن میں مامور من اللہ کا نام نہ آئے۔ساری برکات تو حضور کے نام کے ساتھ وابستہ ہیں۔حضور نے ایک موقع پر کیا خوب فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر مردہ اسلام کو پیش کرو گے۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے خواجہ صاحب کے لیکچر سن کر جب غیر احمد یوں نے واہ واہ کرنا شروع کر دی تو بعض دوسرے احمدی لیکچراروں نے بھی اس طریق کو اپنا نا شروع کر دیا اور غلط فہمی سے یہ خیال کیا جانے لگا کہ اس طرح غیر احمدیوں کو سلسلہ سے مانوس کرنے میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ان واقعات کو دیکھ کر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ۲۷ / مارچ ۱۹۱۰ء کو ایک لیکچر دیا جس میں اس طریق کی غلطی سے جماعت کو آگاہ کیا۔جو نہی آپ کے اس لیکچر کی جماعت میں اشاعت ہوئی۔جماعت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اور اس میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے