حیاتِ نور — Page 369
کریں۔۲۵ اس تقریر سے بھی یہ مترشح ہوتا ہے کہ وعظ و نصیحت کے معاملہ میں بھی انجمن ہی حضرت مسیح موعود ت کے عالم میں علیہ الصلوۃ والسلام کی جانشین ہے۔۔اب آتے ہیں جناب خواجہ کمال الدین صاحب۔آپ نے تو غضب ہی کر دیا۔ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں: ۲۲ / دسمبر ۱۹۰۵ء کے قریب حضرت مسیح موعود کو وحی ہوئی کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس پر آپ نے فورا ایک وصیت شائع فرمائی اور پھر آپ نے قریباً ہر طرح کام سے اپنے تئیں الگ کر لیا اور سب کام صدر انجمن احمدیہ کے سپر د کر دیا۔گویا آپ ہر وقت داعی اجل کو لبیک کہنے کے لئے تیار تھے اور پھر خدا نے بعض جھوٹے مہموں کو کذاب ثابت کرنے کے لئے آپ کو دو اڑھائی سال زندہ رکھا اور اس طرح پر انہوں نے وہ کام جو زندگی کے بعد ہونا تھا اپنی زندگی میں دیکھ لیا۔" غور فرمائیے کس قدر جسارت ہے اس گروہ کی کہ فرماتے ہیں وصیت کے شائع کرنے کے بعد حضور نے سارا کام انجمن کے سپرد کر دیا اور آپ الگ ہو کر بیٹھ گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔اس کے تو یہ معنے ہیں کہ مشہور و معروف کتاب حقیقتہ الوحی بھی جو گویا ایک رنگ میں احمدیت کی انسائیکلو پیڈیا ہے انجمن نے تصنیف کی اور وہ مضمون بھی جو آریوں کے جلسہ وچھو والی لاہور میں پڑھا گیا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے اصحاب نے لکھا تھا۔اور پھر آریوں کے اعتراضات کے جوابات اور الہی نشانوں پر مشتمل عظیم الشان کتاب چشمہ معرفت بھی گویا انجمن ہی کی تصنیف تھی۔ایسا ہی لاہور میں رؤساء کو دعوت دے کر جو تقریر کی گئی تھی وہ بھی انجمن ہی کے کسی سرکردہ ممبر نے کی تھی۔اور مشہور و معروف لیکچر بنام پیغام صلح جو ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس نے ختم کیا وہ بھی انجمن ہی نے لکھا ہوگا حضرت اقدس کی طرف تو یونہی منسوب کر دیا گیا۔کیونکہ بقول خواجہ صاحب موصوف حضور تو سب کام انجمن کے سپرد کر کے خود الگ ہو کر ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔پھر وہ الہی نشانات کی بارش جو اس آخری اڑھائی سال کے عرصہ میں ہوئی اور قدرت کاملہ کی وہ عظیم الشان تجلیاں جن کی وجہ سے کثرت کے ساتھ سلسلہ حقہ کے مخالف موت اور ذلت کا شکار ہوئے۔یہ سب گویا مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے ہمنوا انجمن کے مہروں