حیاتِ نور — Page 370
MYA کی قوت قدسیہ اور اللہ تعالیٰ کے حضور شبانہ روز گریہ وزاری کی وجہ سے دیکھنے میں آئیں۔چراغ الدین جمونی، بابو الہی بخش لاہوری، فقیر مرزا دوالمیال، حکیم عبد القادر طالب پوری، مولوی محمد جان عرف ابوالحسن پسروری، سعد اللہ لودھیانوی، قادیان کے اخبار مجھ چک کے تین جو شیلے آریہ کا رکن اچھر چند سو مراج اور بھگت رام و غیره و غیره ی سب دشمن جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولوی محمد علی صاحب کی انجمن کی مخالفت کی وجہ سے طاعون کا شکار ہوئے۔اور سنیئے ، امریکہ کے مشہور و معروف جان الیگزنڈر ڈوئی کے ساتھ جو مباہلہ ہوا۔وہ بھی غالبا انجمن کے ممبروں ہی نے کیا ہوگا۔کیونکہ حضرت اقدس تو بقول جناب خواجہ صاحب سلسلہ کے کاموں سے الگ ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے تھے۔اور سب کام صدر انجمن ہی کر رہی تھی۔دیکھا جناب! خواجہ صاحب کے خیالات کی جولانگی انہیں کہاں سے کہاں اٹھا کر لے گئی۔سچ ہے۔خشت اول چوں نہر معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج جب بنیاد ہی ٹیڑھی رکھی گئی تو عمارت سیدھی کیسے تعمیر ہوسکتی ہے۔جب یہ فیصلہ کر لیا کہ انجمن ہی خدا تعالی کے مسیح موعود کے تمام کاموں کی جانشین ہے تو لازما یہ لکھنا پڑا کہ حضور کی زندگی میں بھی سارے کام انجمن ہی کرتی رہی اور حضور الگ ہو کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ ر ہے۔نعوذ باللہ من ذلک۔کیا یہ سارا پرو پیگنڈا ایک سوچی سبھی سکیم کے ماتحت نہیں شروع کیا گیا؟ یقینا ایک خاص منصوبہ کے ماتحت یہ تقاریر کی گئیں اور وہ منصوبہ یہی تھا کہ خلافت کے وقار کو گرا کر انجمن کی خلافت پر فوقیت کو ظاہر کیا جائے ورنہ وہ لوگ جو سلسلہ کے لٹریچر سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ الوصیت“ کے لکھنے کے بعد تو حضرت اقدس نے دینی کاموں کی رفتار کو اس قدر تیز کر دیا تھا کہ حضور فرمایا کرتے تھے: ” جو وقت لوازمات بشری کے ماتحت کھانے پینے یا سونے یا رفع حاجت کے لئے پاخانہ وغیرہ جانے میں خرچ ہوتا ہے اس کا بھی ہمیں سخت قلق ہوتا ہے کہ کاش! یہ وقت بھی خدمت دین میں لگ جائے“۔" ایسی مصروفیت اور انہماک کے زمانہ کے متعلق یہ کہنا کہ حضوران ایام میں گویا بر کا رہی بیٹھے رہتے تھے جناب خواجہ صاحب کا ہی کام ہو سکتا ہے ورنہ اور تو کوئی شخص غالباً ایسا کہنے کی جرات نہ کر سکتا۔خلافت کے وقار کو صدمہ پہنچانے کے لئے ایک حرکت ان لوگوں نے یہ کی کہ ۱۹۰۸ ء کے جلسہ سالا نہ میں جہاں دوسرے لیکچراروں کے لئے ایک ایک گھنٹہ وقت مقرر کیا وہاں حضرت خلیفۃ المسیح کی تقریر کے لئے بھی دو گھنٹے مقرر کر دیئے۔لیکن حضرت خلیفہ المسیح الاول جب ظہر و عصر کی نمازیں جمع