حیاتِ نور

by Other Authors

Page 368 of 831

حیاتِ نور — Page 368

کے دن آگئے۔اس جلسہ میں مولوی محمد علی صاحب کے خاص دوستوں نے خلافت پر انجمن کی فوقیت ظاہر کرنے کے لئے یا یوں کہہ لیجئے کہ انجمن ہی کو حضرت اقدس کا جانشین قرار دینے پر بار بار مختلف پیرایوں میں زور دیا۔چنانچہ اخبار بدر میں جو مختصر رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء کے کوائف پر مشتمل چھپی ہے اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔ا۔جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹنٹ سرجن لاہور نے ”ہم کس طرح ترقی کر سکتے ہیں" کے عنوان پر جو چند باتیں کہیں۔ان میں چوتھی بات یہ بیان کی کہ چوتھی بات یہ ہے کہ کمیٹی خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔اس کے قوانین وضوابط کی پابندی ضروری ہے۔حضرت کا بڑا مقصد اشاعت اسلام تھا۔چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک سلسلہ کی اشاعت کے لئے وقف کرے۔۲۳ ۲- حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی جو ان ایام میں مولوی محمد علی صاحب کی قربانیوں کے خاص مداح تھے۔اور خلافت ثانیہ کے ابتدائی ایام ہی میں غیر مبائعین کے گروہ میں شامل ہو گئے تھے لیکن بعد میں اللہ تعالٰی نے انہیں ہدایت دی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلص ترین مبائعین کے ایک ممتاز فرد ثابت ہوئے۔انہوں نے فرمایا: وہ زمانہ گزر گیا کہ مسیح موعود کے سایہ میں بے فکری سے گزارتے تھے۔اب تو ہر ایک کا جوا اس کے سر پر ہے۔ہمیں چاہئے کہ صدر اعلیٰ کی کارروائیوں کو عملی رنگ میں امداد دیں اور ان کی ہدایات کی پیروی کریں۔میرا یقین ہے کہ قدرت ثانیہ کا نزول ان اعمال پر موقوف ہے جو ہم صدر اعلیٰ کے ماتحت بجالائیں گے دیکھ لیجئے۔یہاں خلیفہ امسیح کو صدر اعلی کا نام دے دیا گیا ہے۔اور قدرت ثانیہ کے متعلق اس عقیدہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئی۔-۳- جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے فرمایا کہ مفصلہ ذیل تجاویز پیش کرتا ہوں جو صدر انجمن نے پاس کی ہیں۔ہم سب کا فرض ہونا چاہئے کہ اپنے افعال و اقوال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ارشادات کا پورا خیال رکھیں اور لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک رکھیں جیسا کہ کسی خاص دوست سے کرتے ہیں۔دعائیں کرتے رہیں۔سب کی کچی خیر خواہی ـور