حیاتِ نور — Page 367
ـور ۳۶۵ واقعہ یوں ہے کہ قدرت ثانیہ کے چھٹے روز ہمارے کرتے دھر تے اور اصحاب حل و عقد پھر قادیان تشریف لائے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ شہر سے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو اور مولوی محمد علی صاحب اور بعض اور اپنے ہم خیالوں کو انہوں نے ساتھ لیا اور مزار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جا کر دعا کی۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شہر کو لوٹے۔مگر باغ کے شمال مشرقی کو نہ پر پہنچ کر خواجہ صاحب نے مغربی جانب باغ کی طرف رخ کر لیا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ٹہلتے ٹہلتے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خطاب کر کے بولے: ”میاں ہم سے ایک غلطی ہو گئی ہے جس کا تدارک اب سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ہم کسی ڈھنگ سے خلیفہ کے اختیارات کو محدود کر دیں۔وہ بیعت لے لیا کریں۔نماز پڑھا دیا کریں۔خطبہ نکاح پڑھ کر ایجاب وقبول اور اعلان نکاح فرما دیا کریں یا جنازہ پڑھا دیا کریں اور بس۔خواجہ صاحب کی بات سن کر جو جواب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دیا اسے ہم حضور ہی کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں: ” میں نے کہا کہ اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا ( تھا) کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کوسن کر ہم نے بیعت کی۔تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے؟ میرے اس جواب کو سن کر خواجہ صاحب بات کا رخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہو گئی۔" ان لوگوں کا خیال تھا کہ اگر حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ کو اپنا ہم خیال بنا لیا جائے تو اپنے منصوبہ میں کامیاب ہونا بہت حد تک آسان ہو جائے گا۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تو خلافت کے زبر دست مویدین میں سے ہیں تو یہ پروپیگنڈ ا شروع کر دیا کہ یہ خود خلیفہ بنا چاہتا ہے اور نہ صرف حضور ہی کی بلکہ حضور کے ساتھ ساتھ اس ذاتی عناد کی وجہ سے سارے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت شروع کر دی۔اس عرصہ میں جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء