حیاتِ نور — Page 366
۳۶۴ ـور قادیان میں پہنچی تو باغ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے جانشین حضرت مولوی نورالدین صاحب ہوں۔اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔میں نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔جولوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوں گے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیت کا منشا ہے۔۔۔۔اور اس پر اب تک قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی جن لوگوں نے بیعت کی انہیں آپ کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص کی بیعت کی ضرورت نہیں اور نہ بیعت لازمی ہے لیکن بائیں میں نے بیعت کر بھی لی اس لئے کہ اس میں جماعت کا اتحاد تھا“۔پس بظاہر بیعت کر لینے کے باوجود مولوی صاحب کے دل میں یہی خیال سمایا ہوا تھا کہ آہستہ آہستہ اپنے دوستوں اور ہم خیالوں کو ساتھ ملا کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر لیں اور پھر خلیفہ المسیح کو معزول کر دیں یا خلافت ہی کو سرے سے مٹادیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے دوستوں کی مجالس میں اس قسم کے تذکرے شروع کر دیے جن میں خلافت کا انکار ہوتا تھا اور اس کام کے لئے سب سے پہلے انہوں نے جناب خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر کو چنا۔خواجہ صاحب کا دل پہلے ہی اس طرف مائل تھا اور وہ کسی نہ کسی طرح خود مولوی صاحب موصوف کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے۔صدر انجمن کے بھی چودہ نمبروں میں سے قریباً آٹھ ممبر مولوی صاحب کے دوست یا زیر اثر تھے۔اس لئے انہوں نے یہ سمجھا کہ وہ یہ کام کر گزریں گے مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے کسی شخص کی ظاہری تدبیروں سے خواہ وہ کتنا ہی بااثر ہو۔مٹایا نہیں جاسکے گا۔لیکن بہر حال جب انہوں نے سمجھا کہ اب قوم کے دلوں میں سکون پیدا ہو چکا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی وجہ سے جو زبردست دھکا جماعت کو لگا تھا اسے برداشت کر چکی ہے تو آہستہ آہستہ اپنی تحریک کو وسیع کرنا شروع کیا اور اس کام کے لئے سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف رخ کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب جیسا ہو شیار آدمی تو مولوی صاحب کو مل ہی چکا تھا۔اس لئے آپ اپنا مقصد حل کرنے کے لئے عموماً خواجہ صاحب ہی کو اپنا آلہ کار بنایا کرتے تھے۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی خواجہ صاحب ہی کو آگے کیا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لکھتے ہیں: