حیاتِ نور — Page 351
ـور ۳۴۹ ایک سوال اور اس کا جواب بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد سلسلہ خلافت جاری ہونا تھا تو حضور خود کسی شخص کو اپنا جانشین مقرر کر جاتے یا کم از کم جماعت کو یہ حکم دے جاتے کہ میرے بعد وہ کسی شخص کو منتخب کر لیں مگر الوصیت میں اس کا ذکر نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوزیشن اس معاملہ میں بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کسی کو اپنا خلیفہ تجویز کیا۔نہ اپنی جماعت کو حکم دے گئے کہ میرے بعد کسی شخص کو منتخب کر لینا تھی حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ اگر میں اپنا خلیفہ کسی کو مقرر نہ کروں تو یہ بھی صحیح طریق ہوگا کیونکہ لسم يستخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم لیکن باوجود اس کے چونکہ استخلاف کی آیت میں خلافت کا وعدہ تھا اور حضور کے وصال کے بعد سب نے حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ منتخب کر لیا۔اس لئے ہم لوگ حضرت ابوبکر کی خلافت کے قائل ہیں۔بعینہ یہی ہمارے سلسلہ میں ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وعدہ فرمایا کہ جوا خیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزے کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت ہوا۔اور ادھر واقعات یہ ہیں کہ سب جماعت نے بالا تفاق حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کیا۔اس لئے ہم سلسلہ عالیہ احمدیہ میں خلافت کے قائل ہیں۔پس اگر الوصیت میں حضرت اقدس نے انتخاب کا حکم نہ دیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔لیکن انجمن کا ذکر اگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام رسالہ الوصیت میں نہ فرماتے تو انجمن کا قیام نہ ہوسکتا کیونکہ انجمن منصوص شرعی نہیں اور چونکہ زمانہ حال کے مطابق اس کا وجود نہایت ضروری تھا۔اس لئے حضور نے خود ایک انجمن قائم کی اور رسالہ الوصیت میں اس کے قواعد شائع فرمائے کیونکہ بغیر حضور کے رسالہ الوصیت میں لکھنے کے اس کا قیام ہی نہ ہو سکتا لیکن خلافت چونکہ منصوص شرعی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امتی نبی ہیں۔اس لئے اگر حضور اس کا ذکر الوصیت میں نہ کریں تو اس سے خلافت کا وجود باطل نہیں ہو جاتا۔اگر الوصیت میں نماز پڑھنے اور حج کرنے کا ذکر نہ ہو تو کیا عدم ذکر سے یہ مسائل ساقط ہو جائیں گے، ہر گز نہیں۔اسی طرح اگر بقول غیر مبائعین ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ رسالہ الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں تو بھی خلافت کا وجود ساقط نہیں ہو سکتا۔لیکن ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ رسالہ الوصیت میں خلافت کا صراحتا ذکر ہے۔کمامر۔