حیاتِ نور

by Other Authors

Page 352 of 831

حیاتِ نور — Page 352

ـور انجمن کا اپنا فیصلہ غیر مبائعین حضرات سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام اختیارات انجمن کے سپرد کر دیئے اس لئے کسی خلیفہ کے وجود کی گنجائش نہیں۔ہم کہتے ہیں، جس انجمن کو آپ مطاع کل کہتے ہیں نہ صرف اس انجمن نے بلکہ کل جماعت نے بالا تفاق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کی خلافت کو تسلیم کیا اور اس وقت کے سیکرٹری جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے ۲۸ مئی ۱۹۰۸ ء کو ایک اعلان شائع کیا کہ صدر انجمن احمد یہ قادیان نے اتفاق رائے سے مطابق رسالہ الوصیت حضرت مولانا نورالدین صاحب کو خلیفہ تسلیم کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ نئے اور پرانے سب احمدی آپ کے ہاتھ پر خود حاضر ہو کر یا بذریعہ تحریر بیعت کریں۔آپ حضرت مسیح موعود کی جگہ انجمن کی نگرانی کریں گے اور آپ کا فیصلہ ناطق ہو گا۔پس جس انجمن کے مطاع ہونے کو غیر مبائعین پیش کرتے ہیں وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے اور مولوی محمد علی صاحب ( مرحوم ) کے اس خیال کو بھی جھٹلا چکی ہے کہ پرانے لوگوں کو کسی نئے خلیفہ کی بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔اب یا تو انجمن کا یہ فیصلہ قبول کیا جائے گا تو مثبت المدعا یعنی خلافت ثابت ہوگئی یا قبول نہ کیا جائے تو بھی ثبت المد عا یعنی ثابت ہو جائے گا کہ انجمن مطاع کل نہیں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اسی دلیل سے کام لیتے ہوئے ایک موقعہ پر فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تم چودہ آدمیوں ( ممبران صدر انجمن احمد یہ ناقل ) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور پھر خدا تعالیٰ نے تم سب کو پکڑ کر میرے آگے جھکا دیا۔پس غیر مبائعین کی مثال تو مدعی ست اور گواہ چست کی ہے کیونکہ جس انجمن کو وہ مطاع بنانا چاہتے ہیں وہی اپنے آپ کو خلافت کی مطیع قرار دیتی ہے۔غیر مبائعین کے سامنے جب یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ اگر تمہارے نزدیک الوصیت سے خلافت کا ثبوت نہیں ملا تو پھر تم نے حضرت خلیفۃ المسح الاول کی بیعت کیوں کی تھی اور کیوں چھ سال تک متواتر آپ لوگ حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ المسیح مانتے رہے تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت بطور خلیفۃ المسیح نہیں کی تھی بلکہ آپ کی بیعت مستقل طور پر اسی طرح کی تھی جس طرح ہم نے مسیح موعود کی کی تھی یعنی بیعت تو بہ۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب فرماتے ہیں: