حیاتِ نور

by Other Authors

Page 350 of 831

حیاتِ نور — Page 350

۳۴۸ خیر اب یہ امام اس انجمن کو اپنا جانشین کر گیا ہے“۔۱۵ آئندہ صفحات میں احباب کسی جگہ جناب خواجہ صاحب کے اس بیان کا مفصل جواب ملاحظہ فرمائیں گے کہ حضرت اقدس وصیت شائع فرمانے کے بعد ایک تماشائی کی طرح خاموش ہو کر ایک طرف نہیں بیٹھ گئے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جتنا کام ان آخری سالوں میں ہوا۔پہلے سالوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔باقی رہا یہ سوال کہ صدر انجمن بنا کر اسے سارے کام سونپ دیئے یہ بالکل غلط ہے۔ہاں جو کام اس سے متعلق تھے وہ اس کے سپر دفرمائے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ پھر وہ انجمن حضور کی نگرانی سے بکلی آزاد ہو گئی یا یہ کہ حضور کو اس میں دخل دینے کا حق بالکل نہ رہا۔دنیا میں جب کوئی افسر کوئی کام اپنے کسی ماتحت کے سپرد کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اب وہ ماتحت خود مختار ہو گیا ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ افسر تمام چھوٹے چھوٹے کام خود نہیں کر سکتا بلکہ اسے ان کاموں کے لئے معاونین کی ضرورت ہوتی ہے۔پس صدر انجمن کی حیثیت بھی ایک معاون ہی کی تھی اس سے زیادہ اسے اور کوئی پوزیشن حاصل نہ تھی۔اور جس کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ اپنے افسر کا قائمقام یا جانشین ہی ہوتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اس افسر کی وفات کے بعد وہ شخص اس کے منصب یا کام کو سنبھالنے والا ہوگا۔پھر یہ بھی یا درکھنے والی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا کہ صدر انجمن میری وفات کے بعد میری جانشین ہوگی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس وقت جانشین ہے۔جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضور کے بعد جو شخص بھی سلسلہ کا نگران یا پیشرو ہوگا پھر یہ اس کی جانشین ہوگی۔یعنی جو کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے سپرد کئے ہیں جو شخص حضور کا خلیفہ مقرر ہوگا اس کے زمانے میں بھی انجمن بدستور وہ کام کرتی رہے گی۔اس سے زیادہ حضور کی اس تحریر کا اور کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ورنہ صرف اس ایک فقرہ کی وجہ سے حضور کی دوسری ساری تحریروں اور ملفوظات کو جن میں خلافت کا وضاحت کے ساتھ ذکر ہے منسوخ قرار دینا پڑے گا جو کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا۔پھر لطف یہ ہے کہ کئی تحریریں اور ملفوظات اس فقرہ کے بعد بھی موجود ہیں جن میں صراحت کے ساتھ خلافت کا ذکر ہے جیسے بدر اور الحکم کی ڈائریاں۔نیز حضور کی آخری تحریر رسالہ ”پیغام صلح ، جس میں حضور کے بعد جماعت کے لیڈر اور پیٹرو کا ذکر ہے وغیرہ وغیرہ ور