حیاتِ نور

by Other Authors

Page 335 of 831

حیاتِ نور — Page 335

ـور ۳۳۳ لئے جو پیٹھ توڑ دیں ، عصا بن جاتے ہیں۔اس وقت مردوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں خود ضعیف ہوں۔بیمار رہتا ہوں۔پھر طبیعت مناسب نہیں۔اتنا بڑا کام آسان نہیں۔حضرت صاحب کے ساتھ چار کام تھے۔اول ایک ان کی اپنی عبودیت دوم کنبه پروری سوم مهمان نوازی چهارم اشاعت اسلام جو ان کا اصل مقصد تھا۔ان چار کاموں میں سے ایک سے ہم سبکدوش ہو سکتے ہیں، وہ آپ کی عبودیت تھی جو ان کے ساتھ رہے گی۔آپ نے جیسے اس جہاں میں خدمتیں کیں ویسے ہی بعد الموت کریں گے۔باقی تین کام ہیں۔ان میں سے اشاعت اسلام کا کام بہت اہم اور نہایت مشکل ہے۔اس وقت دہریت کے علاوہ اندرونی اختلاف بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے مٹانے کے لئے ہماری جماعت کو منتخب کر لیا ہے۔تم آسان سمجھتے ہو مگر بوجھ اٹھانے والے کے لئے سخت مشکل ہے۔پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔جن عمائد کا نام لیا ہے۔ان میں سے کوئی منتخب کر لو۔میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سُن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشار تا فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال ان ہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک شخص دوسرے کے لئے اپنی تمام حریت اور بلند پروازیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا نام عبد رکھا ہے۔اس عبودیت کا بوجھ اپنی ذات کے لئے مشکل سے اٹھایا جاتا ہے کوئی دوسرے کے لئے کیا اور کیونکر اٹھائے۔طبائع کے اختلاف پر نظر کر کے یکرنگ ہونے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہے۔میں تو حضرت