حیاتِ نور — Page 336
" سم سمسم صاحب کے کاموں میں حیران ہو جاتا ہوں کہ اول بیمار پھر اس قدر بوجھ۔نثر ، نظم، تصنیف، دیگر ضروری کام۔ادھر میں حضرت صاحب کے قریب عمر، وہاں تائیدات روزانہ موجود۔یہاں میری حالت ناگفتہ بہ۔اسی لئے فرمایا فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانا کہ یہ سب کچھ خدا کے فضل پر موقوف ہے۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت عرب کی حالت میں ایک بڑا امر پیش کرتا ہوں کہ جناب ابو بکر کے زمانے میں عرب میں ایسی بلا پھیلی تھی کہ سوا مکہ اور مدینہ اور جوانہ کے سخت شور وشر اٹھا۔مکہ والے بھی فرنٹ ہونے لگے۔مگر وہ بڑی پاک روح تھی جس نے انہیں کہا کہ اسلام لانے میں تم سب سے پیچھے ہو، مرتد ہونے میں کیوں پہلے بنتے ہو۔صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔میرے باپ کے اوپر جو پہاڑ گرا ہے وہ کسی اور پر گرتا تو چور ہو جاتا۔پھر میں ہزار کی جماعت مدینہ میں موجود تھی۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حکم دے چکے تھے کہ ایک لشکر روانہ کرنا ہے۔پس اس کو بھیجدیا۔ادھر اپنی قوم کا یہ حال تھا مگر آخر خدا نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھلایا۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ کا زمانہ آ گیا۔اس وقت بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا۔میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر کے زمانہ میں صحابہ کرام کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں۔سب سے اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔پھر حضرت ابو بکر نے زکوۃ کا انتظام کیا۔یہ ایک بڑا عظیم الشان کام ہے۔انتظام زکوۃ کے لئے اعلیٰ درجے کی فرماں برداری کی ضرورت ہے۔پھر کنبہ کی پرورش ہے۔غرض کئی ایسے کام ہیں۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ کسی طرف ہوں۔تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہا اس بوجھ کو اُٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔اُن میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور اُن امور کو جو وقتاً