حیاتِ نور

by Other Authors

Page 334 of 831

حیاتِ نور — Page 334

۳۳۲ انتخاب خلافت کے موقعہ پر آپ کی پہلی تقریر تشہد اور تعوذ کے بعد آیت وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کی تلاوت فرمائی۔اور اس کے بعد ایک دردانگیز تقریر فرمائی۔جس میں فرمایا کہ ” میری پچھلی زندگی پر غور کرو۔میں کبھی امام بننے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے۔میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں اور قادیان بھی اسی لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی۔اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔حضرت صاحب کے اقارب میں تین آدمی موجود ہیں۔اول میاں محمود احمد ، وہ میرا بھائی بھی ہے اور بیٹا بھی۔اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔فرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں۔تیسرے قریبی نواب محمد علی خاں صاحب ہیں۔اسی طرح خدمت گزاران دین میں سے سید محمد احسن صاحب نہایت اعلیٰ درجہ کی لیاقت رکھتے ہیں۔سید بھی ہیں۔خدمات دین میں ایسے ایسے کام کئے ہیں کہ میرے جیسا انسان شرمندہ ہو جاتا ہے۔آپ نے ضعیف العمری میں بہت سی تصانیف حضرت کی تائید میں کیں۔یہ ایسی خدمت ہے جو انہی کا حصہ ہے۔بعد اس کے مولوی محمد علی صاحب ہیں جو ایسی خدمات کرتے ہیں جو میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتیں۔یہ سب لوگ موجود ہیں۔باہر کے لوگوں میں سے سید حامد شاہ اور مولوی غلام حسن ہیں اور بھی کئی اصحاب ہیں۔یہ ایک بڑا بوجھ ہے۔خطر ناک بوجھ ہے۔اس کا اٹھانا مامور کا کام ہو سکتا ہے۔کیونکہ اس سے خدا کے عجیب در عجیب وعدے ہوتے ہیں۔جو ایسے دکھوں کے ـور