حیاتِ نور

by Other Authors

Page 315 of 831

حیاتِ نور — Page 315

آئے۔اور باوجودشدید علالت کے ایک نہایت لطیف خطبہ تقوی، دعا اور قربانی پر بیان فرمایا۔۱۳ میاں عبدالوہاب صاحب کی پیدائش ۸ فروری ۱۹۰۸ء ۸ فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت خلیفۃ المسح الاول رضی اللہ عنہ کے گھر میں تیسرالڑ کا پیدا ہوا۔جس کا نام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عبدالوہاب تجویز فرمایا۔خطبہ نکاح حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۸ء ۱۷ام فروری ۱۹۰۸ء بروز سه شنبه بعد نماز عصر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ساتھ چھپن ہزار روپیہ مہر پر حضرت مولوی صاحب نے پڑھا۔آپ نے خطبہ نکاح میں پہلے عربی زبان میں حمد الہی بیان کی۔پھر چند آیات قرآن کی تلاوت کی اور پھر عربی عبارت کی تفسیر اور تشریح کی۔اور نکاح کی ضرورت اور اس کے فوائد پر بحث کی اور آخر میں حق مہر کے متعلق فرمایا کہ مہر خاوند کے حالات اور اس کی قوم اور ملک کے حالات کے مطابق ہوتا ہے ورنہ ایک غریب شخص کا نکاح صرف اتنے پر ہوا کہ اس سے اقرار لیا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو حق مہر کے عوض چند آیات قرآنی پڑھا دے گا۔اس اس رشتہ کی تحریک بھی دراصل حضرت مولوی صاحب کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔واقعہ یوں ہے کہ حضرت نواب صاحب کی بیگم محترمہ امتہ الحمید صاحبہ جب وفات پاگئیں تو حضرت نواب صاحب کونسی موزوں جگہ رشتہ کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔حضرت اقدس نے بھی کئی جگہ تحریک فرمائی مگر کوئی نہ کوئی روک پیدا ہوتی رہی یہانتک کہ ایک روز حضرت نواب صاحب حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواہش ظاہر کی کہ فلاں جگہ رشتہ کے متعلق خط لکھدیں۔آپ نے فرمایا: اچھا ہم لکھ دیتے ہیں مگر دل نہیں چاہتا۔ہمارا دل کچھ اور چاہتا ہے۔مگر زبان جلتی ہے۔حضرت نواب صاحب آپ کے اس فقرہ سے سمجھ گئے اور دوسری جگہ خط لکھوانے کی خواہش چھوڑ دی اور آپ سے کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔اور بعد میں گفت و شنید کے ذریعہ سے رشتہ طے قرار پا گیا۔حضرت مولوی صاحب کے حضرت نواب صاحب کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور انہی کی بناء پر آپ حضرت نواب صاحب کی پہلی بیوی کے بچوں کو بھی نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم اخلاص اور