حیاتِ نور — Page 314
کارکنان تشحید الاذھان کے انتظام کے ماتحت ایک جلسہ عام میں آپ کی تقریر ۲۵ دسمبر ۱۹۰۷ء ۲۵ دسمبر ۱۹۰۷ء کو کارکنان رسالہ " تشحمید الاذھان کے انتظام کے ماتحت آپ نے ایک تقریر فرمائی۔جس میں احباب جماعت کو رسالہ مذکور کی خریداری کی طرف توجہ دلانے کے بعد واعظ کے مزکی ہونے کے بارے میں نہایت لطیف ارشادات فرمائے اس تقریر میں آپ نے قرآن کریم سے یہ ثابت کیا کہ سب سے بولے واعظ انبیاء کرام اور ان کے بعد خاصان خدا ہوتے ہیں۔لہذا اگر نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ سلسلہ فقہ کے لئے مفید واعظ بن سکیں تو انہیں اپنے نفسوں کی اصلاح کرنی چاہئے۔جلسہ سالان۱۹۰۷ ء کی تقاریب ۲۶ دسمبر ۱۹۰۷ ء کو حضرت مولوی صاحب نے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کروانے کے بعد بعض نکاحوں کا اعلان فرماتے ہوئے ایک نہایت لطیف خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں نکاح کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔۲۷ دسمبر کو جمعہ تھا۔حضرت اقدس کے ارشاد کے ماتحت آپ نے خطبہ جمعہ مسجد اقصیٰ میں پڑھایا۔جلسہ کی وجہ سے عصر کی نماز بھی ساتھ ہی ادا کی گئی۔۲۸ رو مبر کو جلسہ کا آخری دن تھا۔مغرب کی نماز کے بعد صدر انجمن احمدیہ کی کانفرنس ہوئی۔جس میں بیرونی انجمنوں کے اکثر عہدیدار شامل ہوئے۔سب سے پہلے سیکریٹری صاحب نے مختلف مرکزی صیغوں کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔اس کے بعد بجٹ برائے ۱۹۰۸ ء پیش ہوا۔بجٹ کے بعد جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے تمام ضروری امور کی تفصیل پیش کی اور بعد ازاں حضرت مولوی صاحب نے ایک شاندار تقریر میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ قرآن کریم کی رو سے کس قسم کی انجمنیں بنانا جائز ہیں اور کس قسم کی ناجائز۔119 خطبہ عید الاضحیه ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۸ء حضرت مولوی صاحب بہ سبب اسہال علیل تھے۔بعض دوستوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ حضرت مولوی صاحب بوجہ بیماری نہ آسکیں گے۔مگر حضرت نے فرمایا کہ میں نے ابھی انکو ایک دوائی بھیجی ہے۔بلاؤ تو سہی۔دوا کیا تھی ! حضرت کی دعا کا اثر تھا کہ مولوی صاحب تشریف لے