حیاتِ نور

by Other Authors

Page 304 of 831

حیاتِ نور — Page 304

ور ۳۰۲ اکبر شاہ خان نجیب آبادی کے والد کی صحت کے لئے دعا ۵ ار فروری ١٩٠٧ء اکبر شاہ خان نجیب آبادی کے والد مولوی نادر شاہ خان صاحب سخت بیمار ہو گئے۔بعد میں خط آیا کہ والدہ بھی بیمار ہوگئی ہے۔اکبر شاہ خاں وہی خط لئے ہوئے بیتابانہ حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انسلام علیکم عرض کر کے دعا کی درخواست کی۔آپ نے سلام کا جواب دے کر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا وہ اچھے ہو گئے یا وہ اچھے ہو جائیں گے۔یہ فرمانا کچھ اس طرح غیر معمولی تھا کہ بظاہر بڑی ہی کم تو جہی پائی جاتی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ نے بے اعتنائی یا تحقیر کے ساتھ نال دیا ہے۔اکبر شاہ خاں لکھتے ہیں کہ ”میرے دل میں اس وقت بجلی کی طرح یک لخت حدیث رب اشعث اغبر لو اقسم على الله لابرہ کا خیال گزرا اور یقین ہو گیا کہ میرے والدین اچھے ہو جائیں گے۔چنانچہ والد صاحب کا خط آ گیا کہ ۱۵ر جولائی کو گیارہ بجے کے قریب سے ( ٹھیک یہی وقت حضرت حکیم الامتہ کی خدمت میں میرے حاضر ہونے کا تھا) ہم یک لخت اچھے ہو گئے اور مرض کی تمام علامات یک لخت جاتی رہیں۔ہزاروں لاکھوں بلکہ لا تعد اور حمتیں ہوں اے مسیح موعود تجھ پر کہ تیری تعلیم کا میں نے یہ اثر دیکھا کہ تیرے ایک مرید مولوی نور الدین کی دعا سے بھی مردے زندہ ہو جاتے ہیں“۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد اور میاں عبدالحی کے نکاحوں کا اعلان ۳۰ اگست ۱۹۰۷ء حضرت اقدس کے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کا نکاح حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم بیگم صاحبہ کے ساتھ اور حضرت مولوی صاحب کے لڑکے میاں عبدالحئی کا نکاح حضرت پیر منظور محمد صاحب کی لڑکی حامدہ بیگم صاحبہ کے ساتھ قرار پایا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے ۳۰ را گست ۱۹۰۷ ء کو عصر کی نماز کے بعد حضرت اقدس کی موجودگی میں دونوں کا خطبہ نکاح پڑھا۔