حیاتِ نور — Page 305
حضرت مولوی صاحب جیسا طبیب ہر جگہ کہاں مل سکتا ہے ایک بیمار جو کہ بہار سے اپنا علاج کروانے کے لئے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔حضرت اقدس کی خدمت میں بھی سلام کے لئے حاضر ہوا۔حضور نے اثنائے گفتگو میں حضرت مولوی صاحب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: مولوی صاحب کا وجود از بس غنیمت ہے۔آپ کی تشخیص بہت اعلیٰ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیمار کے واسطے دعا بھی کرتے ہیں۔ایسے طبیب ہر جگہ کہاں مل سکتے ہیں۔۱۰۸ صدر انجمن کے فیصلہ کا احترام محترم جناب ماسٹر فقیر اللہ صاحب کا بیان ہے کہ ” جب قادیان میں انجمن قائم ہوئی تو انجمن کی نقدی رکھنے کے لئے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک لوہے کی الماری انجمن کو دی۔جب میں دفتر محاسب میں لگا تو حضرت مولوی صاحب انجمن کے امین تھے اور یہ الماری اس کو ٹھڑی میں تھی جو حضرت مولوی صاحب کے مطب کے ساتھ تھی اور مولوی صاحب کے شاگر د حضرت مولوی غلام محمد صاحب کشمیری اس میں سویا کرتے تھے اور اگر کوئی اور حضرت مولوی صاحب کا مہمان ہوتا۔تو وہ بھی وہاں سوتا۔اس الماری کی ایک چابی حضرت مولوی صاحب کے پاس رہتی اور ایک میرے پاس اور انجمن کی ہدایت تھی کہ الماری دونوں کی موجودگی میں کھلے چونکہ الماری میں تقریباً روزانہ روپیہ رکھنا یا نکالنا ہوتا تھا۔میں دفتر محاسب آتا اور مولا نا مطب سے اُٹھ کر تشریف لاتے مگر بعد میں وہ اپنے شاگرد مولوی غلام محمد صاحب کشمیری یا کسی اور کو چابی دیدتے۔اور اس کی موجودگی میں الماری کھولی جاتی اور میں رو پیر رکھتا یا نکالتا۔انہی ایام میں ایک دفعہ خزانہ سے ایک سوروپیہ کم ہو گیا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔فرمانے لگے تم جانو۔تم ہی الماری بند کرتے اور کھولتے ہو۔آخر انجمن میں رپورٹ ہوئی۔انجمن نے فیصلہ کیا کہ انجمن کے فیصلہ کے مطابق مولوی صاحب خود نہیں جاتے رہے۔اس