حیاتِ نور — Page 303
”میاں صاحب! اللہ تعالیٰ مومنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے لَا نُفَرَقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ۔اور آپ نے بلا وجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کا فر ہو سکتا ہے اور غیر صاحب شرع کا کا فرنہیں۔مجھے اس تفرقہ کی وجہ معلوم نہیں ہوئی۔جن دلائل و وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں۔انہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں مسیح موعود کو مانا پڑا ہے۔اگر دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے۔آپ اس آیت پر غور کریں وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ امِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمُ - ولائل کی مساوات پر مدلول کی مساوات کیوں نہیں مانی جاتی “۔دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے۔نازل ہونے والے عیسیٰ بن مریم کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ فرمایا ہے اور ان الہامات دو حیوں نے جو مرزا کو منجانب اللہ ہوئیں۔اگر آپ احادیث کو مانتے ہیں تو آپ لا ايمان لمن لا امانة " له ولا دين لمن لا عهدله لا صلواة الا بفاتحة الكتاب۔لا نكاح الابولى لا حسد الا فى اثنین۔میں غور فرماویں کیا ی یفی آپ کے نزدیک عموم رکھتی ہے پھر غور کرو۔اور قرآن کریم میں تو خاتم النبین بفتح تا ہے۔خاتم بکسر تا نہیں۔بھلا میاں صاحب! يَقْتَلُونَ النَّبِيِّينَ میں آپ عموم کے قائل ہیں یا تخصیص کے۔ابوبکر کو نبی نہیں کہا گیا اور مسیح موعود کو کہا گیا۔سر دست اسی عرض پر بس کرتا ہوں۔یار باقی صحبت باقی نورالدین در جولائی ۱۹۰۷ء ور -۲