حیاتِ نور — Page 254
ـور ۲۵۴ مکتوب لکھا اور چونکہ مولوی صاحب موصوف کا تعلق حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ساتھ بھی تھا اس لئے حضور نے حضرت مولوی صاحب کو بھی فرمایا کہ آپ بھی اس مکتوب پر چند سطور لکھ دیں۔چنانچہ آپ نے لکھا۔خاکسار نورالدین- بگرامی خدمت قاضی صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته گزارش پرداز سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کا يُؤْمِنُ أَحَدَكُمُ حَتَّى يُحِبُّ لَا خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ- پس با امِثْقَالِ أَمْرِ عَالَمَ النَّبِيِّينَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ عَلَيْهِ الصَلوةُ وَالسَّلَامُ إِلَىٰ يَوْمِ الدین در دول سے عرض ہے کہ جناب امام الزمان علیہ الرضوان کے ارشاد کو دنیا کی بے ثباتی پر نظر کر کے غور سے پڑھیں اور بجائے اس کے کہ آپ گزشتہ بزرگان کی قبور پر توجہ فرما دیں۔زندہ امام کے انصار اللہ میں اپنے آپ کو منسلک کر دیں۔سارے کمالات اور انہی رضا مندی اطاعت میں ہے۔اور بس۔نورالدین ۷ شعبان ۱۳۱۷ صبح ۵۲ الاعلام حضرت مولوی صاحب ہر وقت اسی فکر میں لگے رہتے تھے کہ آپ زیادہ سے زیادہ خدمات سلسلہ بجالا کر حضرت اقدس کے عظیم الشان کام میں محمد معاون ہو جا ئیں۔چنانچہ عیدالاضحیہ کے بعد آپ نے چند احباب کے سامنے کچھ باتیں پیش کیں۔جنہیں بعد ازاں الاعلام“ کے عنوان سے الحکم میں شائع بھی کروا دیا۔وھوھذا۔دو الاعلام" میں عرصہ دراز سے بحضور حضرت امام حجتہ الاسلام سلمہ اللہ تعالی سعادت افروز رہا اور اب بھی ہوں۔ہمیشہ حضرت ممدوح کی محنتوں اور مشقتوں کو دیکھتا۔تو مجھے جوش اُٹھتے تھے کہ الہی ! کوئی دینی خدمت مجھ سے بھی ہوتی اور خواہش تھی کہ اللہ