حیاتِ نور

by Other Authors

Page 253 of 831

حیاتِ نور — Page 253

۲۵۳ پ مسجد اقصیٰ میں درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے میں بھی پیچھے پیچھے آرہا تھا۔اور لوگ بھی تھے فرمایا۔نور الدین کو جب بھی روپیہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے نور الدین کی ضرورت پوری کر ہی دیتا ہے مگر آج میں بہت پریشان ہوں۔میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ حضور! میرے پاس جو حضور کی رقم محفوظ ہے۔میں وہ لا دیتا ہوں۔فرمایاوہ کیسے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کبھی کبھی مجھے جور تم دیا کرتے ہیں وہ میں محفوظ کر لیتا ہوں۔یہ کہہ کر میں اسی وقت گیا اور تھیلی لا کر پیش کر دی۔حضور روپیہ لے کر بہت خوش ہوئے۔یوم عرفہ اور حضرت اقدس کی دعا يوم العرفات کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو ایک رقعہ کے ذریعہ اطلاع دی کہ میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دعا میں گزارنا چاہتا ہوں۔اس لئے وہ دوست جو یہاں موجود ہیں۔اپنا نام اور جائے سکونت لکھ کر میرے پاس بھیجدیں تا کہ دعا کرتے وقت مجھے یادر ہیں۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے سب دوستوں کو نکما کر ایک مختصری تقریر کی جس میں حضرت کے ارشاد سے سب کو مطلع کیا اور ایک فرد بنا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کر دی۔چنانچہ حضرت اقدس نے اس دن اور رات کا بڑا حصہ دعاؤں میں گرایا۔چونکہ اس روز احباب کثرت سے آ رہے تھے اور ہر ایک حضرت اقدس کی زیارت کا متمنی تھا۔اس وجہ سے دعا کرتے وقت حضور قلب اور رجوع بتام میں فرق آتا تھا۔لہذا حضرت اقدس نے مکرر اطلاع بھیجی کہ حضور کے پاس کوئی رقعہ وغیرہ بھی نہ بھیجے۔حضرت مولوی صاحب نے پھر دوستوں کو جمع کر کے حضور کے اس حکم سے اطلاع دی۔پھر جب مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع ہو ئیں تو اس وقت بھی حضور نے فرمایا کہ " چونکہ میں خدا تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاؤں میں گزاروں۔اس لئے میں جاتا ہوں تا کہ تخلف وعدہ نہ ہو۔یہ فرما کر آپ تشریف لے گئے۔اس وقت حضور کا تشریف لے جانا گویا موسیٰ علیہ السلام کا طور جانا نظر آتا تھا۔بہر حال وہ دن اور رات آپ کی دعاؤں میں گزری۔20 حضرت مسیح موعود کے ایک تبلیغی خط پر حضرت مولوی صاحب کی چند سطور ے شعبان ۱۳۱۷ھ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولودی سلطان محمود احمد صاحب کے نام ایک