حیاتِ نور

by Other Authors

Page 226 of 831

حیاتِ نور — Page 226

۲۲۶ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس قصہ کا ذکر مسل پر لایا جاوے یا ڈپٹی کمشنر صاحب اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کریں۔میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے منکر پینچ والے کمرہ میں جا کر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے رو برو جوڈ پٹی کمشنر کے ساتھ پینچ میں شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کو یہ ماجراسنا دیا۔اس پر خود ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بہت ہنسے۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ امر تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس ماجرا کو قلمبند نہ کریں مگر یہ بات ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہمارے دل پر اثر نہ ہو۔ر لنچ کے بعد جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دوبارہ جرح کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو مولوی فضل دین صاحب وکیل نے اُن سے سوال کیا کہ آج آپ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی پر ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔جس پر بیساختہ میں چونک پڑا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے اس چونکنے کی وجہ پوچھی تو میں نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف اشارہ کیا۔صاحب بہادر نے ڈاکٹر کلارک سے دریافت کیا تو انہوں نے صاف اقرار کیا کہ ہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے اس مقدمہ کی گفتگو کر رہے تھے۔پھر مولوی فضل دین صاحب وکیل نے پوچھا کہ کیا آپ ان دنوں امرتسر سے بٹالہ تک ہنری مارٹن کلارک کے ہمسفر تھے ؟ اور آپ کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خرید کیا تھا تو مولوی محمد حسین صاحب منکر ہو گئے۔بعض وقت انسان اپنے خیالات کا اظہار بلند آواز سے کرتا ہے۔یہی حال اس وقت میرا بھی ہوا۔میرے منہ سے بیساختہ نکلا کہ یہ تو جھوٹ ہے۔تب ڈاکٹر مارٹن کلارک سے ڈپٹی کمشنر نے پھر پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ مولوی صاحب میرے ہم سفر تھے اور ان کا ٹکٹ میں نے ہی خریدا تھا۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب حیران ہو گئے۔آخر انہوں نے یہ نوٹ مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت کے آخر پر لکھا کہ گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے جس کی وجہ سے اس نے مرزا صاحب کے خلاف بیان دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔اس لئے مزید شہادت لینے کی ضرورت نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب شہادت کے کمرہ