حیاتِ نور — Page 227
۲۲۷ سے باہر نکلے۔تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی۔اس پر بیٹھ گئے۔کنسٹیل نے وہاں سے انہیں اُٹھا دیا کہ کپتان صاحب پولیس کا حکم نہیں ہے۔پھر مولوی صاحب ایک بجھے ہوئے کپڑے پر جا بیٹھے۔انہوں (یعنی کپڑے کے مالک) نے یہ کہہ کر کپڑا کھینچ لیا کہ مسلمان ہو کر، سرغنہ کہلا کر اور پھر اس طرح جھوٹ بولنا۔بس ہمارے کپڑے کو نا پاک نہ کیجئے۔تب مولوی نورالدین صاحب نے اُٹھ کر مولوی محمد حسین صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ آپ یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں ہر چیز کی حد ہونی چاہئے۔۲۷ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے اخلاق عالیہ کی یہ ایک مثال ہے کہ آپ نے مولوی محمد حسین صاحب جیسے عید شدید کو بھی اپنے پاس بٹھانے کی ایک راہ نکال لی۔راجہ غلام حیدر صاحب کا یہ طویل بیان جس کا ہمارے موضوع سے بظاہر تعلق نہیں صرف اس لئے نقل کیا گیا ہے تا قارئین کرام مسیح الزمان و مهدی دوران کے ایک تربیت یافتہ خاص مرید اور اہلحدیث کے ایک چوٹی کے عالم کے اخلاقی مقام کا موازنہ کر سکیں۔و بضدها تتبين الاشياء آپ کی تیسری شادی کے لئے کوشش پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب حضرت مولوی صاحب کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور اس امر کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آپ مالیر کوٹلہ تشریف رکھیں تا آپ سے قرآن مجید پڑھا جا سکے۔ادھر پہلی دو شادیوں سے آپ کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوئی تھی اس لئے حضرت اقدس نے حضرت نواب صاحب کو حکیم فضل دین صاحب سے خط لکھوایا کہ آپ کوشش کریں کہ حضرت مولوی صاحب کے لئے کوئی موزوں رشتہ مل جائے بلکہ ایک رشتہ حضور نے بتلایا بھی۔تا اگر وہ مناسب ہو تو حضرت مولوی صاحب کے لئے کثرت سے مالیر کوٹلہ آنے جانے کا موقعہ نکل آئے۔چنانچہ وہ خط یہ ہے: و مکرم معظم جناب نواب صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ حضرت امام حجتہ الاسلام سلمہم اللہ تعالیٰ واید کا منشاء ہے کہ مولوی نورالدین صاحب کی شادی تیسری ہو جاوے۔اس فکر میں بہت طرف خیال کیا تو ایک امر یہ بھی خیال میں آیا کہ کھیرو میں نور محمد کی لڑکی بھی ہے۔آپ ایک لائق سمجھدار اور راز دار عورت بھیج کر دریافت فرما دیں کہ وہ لڑکی کیسی ہے؟ مفصل پتہ