حیاتِ نور

by Other Authors

Page 732 of 831

حیاتِ نور — Page 732

ـور کا فرقراردے وغیرہ وغیرہ۔مولوی محمد علی صاحب کے رویہ پر حیرت حیرانی کی بات ہے کہ وہ شخص جو حضرت خلیفہ لمبیع الاول کی وفات سے دو روز قبل حضرت صاحبزادہ صاحب کے اس ارادہ پر کہ جماعت میں اعلان کیا جاوے کہ لوگ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی بیماری کے ایام میں اختلافی مسائل پر بحث نہ کریں، یہ مشورہ دیتا ہے کہ چونکہ بیر ونجات کے لوگوں کو ان بحثوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔اس لئے انہیں ان جھگڑوں سے آگاہ کر کے ابتلا میں نہ ڈالا جائے۔اس کے اپنے تقویٰ کا یہ حال ہے کہ وہ اس قسم کا مشور ہ دینے سے قبل اختلافی مسائل پر ایک ٹریکٹ لکھ کر طبع کروا چکا ہے اور صرف اس بات کے انتظار میں بیٹھا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول وفات پا جائیں اور میں یہ ٹریکٹ جماعت میں فتنہ و فساد کی آگ سلگانے کے لئے تقسیم کروا دوں۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔کیا مولوی صاحب پر واجب نہیں تھا کہ جب حضرت صاحبزادہ صاحب نے انہیں ایک مشترکہ اعلان کرنے کے لئے کہا تھا تو وہ صاف کہتے کہ صاحبزادہ صاحب! میں اس اعلان پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ مجھے ان لوگوں سے شدید اختلاف ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے معا بعد خلافت کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔یا جو مسئلہ کفر و اسلام میں مجھ سے اختلاف رکھتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔لیکن ان کا یہ کہنا کہ میں اس لئے اس اعلان پر دستخط نہیں کرتا کہ اس سے بیرونی جماعتوں کو ہمارے اختلافات کا علم ہو جائے گا کس قدر دور از حقیقت بات ہے۔آہ! وہ شخص جو پورے چھ سال تک حضرت خلیفہ المسیح الاول کو خلیفہ المسح لکھتا رہا اور جس نے بیعت کرتے وقت اقرار کیا تھا کہ میں آپ کے احکام کو اسی طرح مانا کروں گا جس طرح کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے احکام مانا کرتا تھا۔اقتدار حاصل کرنے کی ہوس میں اس کی آنکھوں پر اس قدر پٹی بندھ جاتی ہے کہ وہ اپنے مرشد کی اس وصیت کو بھی پس پشت ڈال دیتا ہے جو اس کے مرشد نے اس کے سامنے باوجود بے حد نقاہت اور کمزوری کے لکھی اور پھر اسے مومنوں کی ایک جماعت کے سامنے کہا کہ اسے پڑھو اور پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھوایا۔اور پھر آخر میں اسی سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ کوئی بات رہ تو نہیں گئی اور یہ شخص خلیفہ وقت اور مومنین کی ایک بھاری جماعت کے سامنے اقرار کرتا ہے کہ حضور بالکل درست ہے مگر چند دن کے بعد ہی اس کی طرف سے اس مضمون کا ایک ٹریکٹ نکلتا ہے کہ اول تو سلسلہ احمدیہ میں خلافت کی ضرورت ہی نہیں۔صدر انجمن احمدیہ ہی حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کی حقیقی جانشین ہے اور وہی سلسلہ کا ہر قسم کا انتظام کرنے کے لئے کافی ہے لیکن