حیاتِ نور — Page 731
پنجم۔پانچویں بات جو میں آخر کا ر آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح نے یہ فرما دیا ہے کہ ان کا کوئی جانشین ہو۔جو شقی ہو عالم باعمل اور ہر دلعزیز ہو اس لئے صرف اس فرمان کی تعمیل کے لئے تم کسی شخص کو ضرورت کے وقت اس غرض کے لئے منتخب کر لو کہ وہ ہماری قوم میں سب پر ممتاز ہو۔تم اس کے حکموں کی قدر کرو۔بلا کسی سخت ضرورت کے اس سے اختلاف نہ کرو مگر قومی مشورہ سے اسے طے کرو۔چالیس انصار اللہ کے فیصلے کو احمدی قوم کا فیصلہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ انصار اللہ کا بھی نہیں کہا جاسکتا۔لیکن تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کو مد نظر رکھو۔اگر کہو کہ جانشین کے معنے یہ ہیں کہ جو حضرت خلیفتہ المسیح کرتے ہیں وہ بھی وہی کرے۔تو دیکھو تم الوصیت میں لکھا ہوا پڑھتے ہو اور یہ مامور من اللہ کا کلام ہے۔جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا کہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے مگر کیا تم ان معنوں میں انجمن کو جانشین مانتے ہو کہ جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرتے تھے وہی انجمن بھی کرے۔انجمن کہاں بیعت لیتی ہے حالانکہ حضرت صاحب لیتے تھے۔پس اگر وہاں جانشین کے معنے کچھ اور کر سکتے ہیں تو یہاں وہی معنے لفظ جانشین کے کرلو۔ہاں ایک شخص کو ممتاز حیثیت دے دونگر قومی مشورہ سے، جلدی میں نہیں تا حضرت خلیفہ المسیح کا منشاء بھی پورا ہو جاوے۔مگر ایسا شخص اس بات کا ہرگز مجاز نہیں کہ احمدیوں سے بیعت لے۔دوسرے اس میں وہ باتیں موجود ہونی چاہئیں یعنی متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے احباب سے نرمی اور درگذر سے کام لے۔ہاں میں بلا کسی ڈر کے یہ کہوں گا کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے والے تقویٰ سے الگ راہ پر قدم مارتے ہیں اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔(صفحہ ۱۹۔۲۰) ظاہر ہے کہ اس ٹریکٹ میں جماعت کو اکسایا گیا تھا کہ اب کسی شخص کو خلیفہ تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔صدر انجمن سارے کام چلا سکتی ہے۔البتہ جن لوگوں پر چالیس آدمی اتفاق کریں۔انہیں غیر احمدیوں سے بیعت لینے کا اختیار دے دیا جائے۔اور اگر حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وصیت کے مطابق کوئی ایک شخص سر بر آوردہ بنایا جائے تو وہ متقی ہونا چاہئے اور متقی وہ نہیں ہو سکتا جو غیر احمد یوں کو ور