حیاتِ نور

by Other Authors

Page 689 of 831

حیاتِ نور — Page 689

۶۸۴ مرحوم ہوں گے۔میرے پاس حضرت مولوی صاحب کا اس مفہوم کا کوئی خط موجود نہیں۔غرض ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے ہم اس خط کو ایک نظر دیکھ لیں۔مگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔البتہ یہ ضرور سنتے رہتے ہیں کہ اصل خط ہمارے پاس موجود ہے۔جو دیکھنا چاہے۔آکر دیکھ لے مگر دکھایا آج تک نہیں گیا۔اب قارئین کرام بتائیں کہ ہم اس سے کیا بجھیں؟ کہ ہم حضرت خلیفۃ المسح الاول نے پیغام صلح منگوانا بند کر دیا اس جگہ پر اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ غیر مبائعین کی اس قسم کی کاروائیوں کی وجہ سے حضرت خلیفہ المسیح اول ان سے سخت ناراض ہو گئے تھے اور حضور نے ان کا اخبار ”پیغام صلحی، منگوانا بند کر دیا تھا۔اس پر ان لوگوں نے جماعت میں بعض غلط فہمیاں پھیلانا شروع کر دیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں ایک دوست کا سوال اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بد کا جواب شائع کر دیا جائے۔وھوھذا پیغام صلح لاہور سے متعلق کسی صاحب کے خط کا جواب حضرت مفتی صاحب کی طرف سے کسی دوست نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس کا خلاصہ یہ تھا راگست ۱۹۱۳ء کے پیغام صلح میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب سے متعلق صریح الفاظ میں بدبخت، حرام خور اور بے حیا لکھا گیا ہے۔دوسری بات اس دوست نے دیکھی کہ پیغام صلح میں لکھا ہے کہ پیغام کو بعض نادانوں نے یہ جتا کر کہ گورنمنٹ اس پر ناراض ہے حضرت خلیفتہ المسیح کے نام آنے سے بند کرادیا تھا۔لیکن وہ رحیم انسان پھر بھی منگوانے لگ گیا۔آپ مہربانی فرما کراللہ شہادت دیں کہ پیغام کیوں بند ہوا تھا۔اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح نے منگوانا شروع کیا تھا یا نہیں اور اگر پھر پیغام آنے لگ گیا۔تو آیا پھر اسے خلیفہ المسیح نے واپس کیا تھا یا نہیں؟ یہ کہتے ہوئے کہ بند بالکل بند اور پھر تا دم وصال منہ نہیں لگایا۔اس کے جواب میں حضرت مفتی صاحب نے اوپر کے سخت الفاظ کا کوئی جواب نہ دیا۔البتہ پیغام صلح کے متعلق جو کچھ لکھا۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اول یہ بالکل جھوٹ ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے پیغام اس لئے بند کیا تھا کہ گورنمنٹ اس پرچہ سے ناراض ہے۔اصل بات یہ ہے کہ پیغام صلح میں ایک چار سطر کا مضمون دبی زبان میں قادیان کے اخباروں پر حملہ آور ہو اتھا۔جس پر حضرت مرحوم ایسے ناراض ہوئے کہ فرمایا۔یہ پیغام جنگ ہے۔"