حیاتِ نور — Page 688
ـاتِ نُ ـور ۶۸۳ مہذبانہ حرکات کا ذکرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ آپ لوگوں نے مجھ پر مختلف رنگوں میں مالی بدظنی کی۔الحمد للہ کہ اب اس سے نجات ملی۔نواب میر ناصر اور محمود کو نالائق اور بے وجہ جو شیلے کہتے ہو۔یہ بلا اب تک لگی ہے۔اس کے لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ یا اللہ ! اس سے۔ناقل ) نجات دے۔ایسا معلوم ہوتا ہے۔ان لوگوں نے ان بدظنوں سے متعلق جو یہ لوگ حضرت خلیفہ اول پر کیا کرتے تھے کسی موقعہ پر مصلحت وقت کے ماتحت معافی مانگ لی ہوگی۔مگر سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ حضرت نواب صاحب اور حضرت میر ناصر نواب صاحب جو آپ کو از حد پیارے تھے۔ان پر جو الزامات یہ لوگ لگایا کرتے تھے اور انہیں ”جو شیلے اور نالائق وغیرہ کہا کرتے تھے۔ان سے ابھی تو بہ نہیں کی تھی اور حضرت خلیفہ المسیح اول یہ چاہتے تھے کہ اس مصیبت سے بھی نجات حاصل ہو اور جماعت متحد ہو کر تعمیری کام شروع کر دے۔انداز ۱۹۴۰ء کا واقعہ ہے۔قادیان سے ایک وفد لاہور کے لئے روانہ ہوا۔جو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری، محترم مولانا محمد سلیم صاحب، محترم مولانا محمد احمد صاحب اور خاکسار پر مشتمل تھا۔اس وفد کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام ان اصحاب سے ملاقات کرنا جو کافی عرصہ حضور کے ساتھ رہے ہیں۔لاہور پہنچتے ہی سب سے پہلے ہم نے مسلم ٹاؤن میں جا کر جناب مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت غیر مبائعین سے ملاقات کی۔ان کے کمرے میں جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب بھی موجود تھے۔اخویم محترم مولانامحمد سلیم صاحب نے جناب ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں نے ہمارے امام سے متعلق جو یہ فقرہ شائع کیا ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول نے حضور کو نالائق اور بے وجہ جو شیلا قرار دیا ہے۔ہمارے نزدیک یہ سراسر افترا ہے اور اگر یہ تحریر حکایہ عن الغیر نہیں لکھی گئی تو از راہ نوازش ہمیں وہ خط دکھا دیجئے۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کی طبیعت ذرا جو خیلی تھی۔پہلے تو آپ نے ایک دو مرتبہ فرمایا کہ جاؤ! جا کر الفضل میں شائع کر دو کہ ڈاکٹر وہ خط نہیں دکھاتا۔لیکن جب بار بار درخواست کی گئی تو فرمایا کہ شیخ مولا بخش صاحب لا سکیوری کے پاس اصل خط موجود ہے۔وہاں جا کر دیکھ لو۔کچھ دنوں بعد خاکسار کو لائل پور جانے کا اتفاق ہوا۔شیخ صاحب موصوف سے میں نے لاہور والی گفتگو سنا کر مطالبہ کیا کہ مہربانی فرما کر وہ خط مجھے دکھا دیجئے۔شیخ صاحب نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب کو غلطی لگی ہے وہ شیخ مولا بخش صاحب مرحوم برادر اصغر شیخ محمد اسماعیل