حیاتِ نور — Page 690
۶۸۵ مجھے حکم دیا کہ اگر چہ ہم قیمت دے چکے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمارے نام اس کا آنا بند کر دیں۔اگر ڈاک میں آوے تو واپس کر دیں اور خود بھی ایک خط پیغام کے ایڈیٹر کو لکھا۔جس پر ڈاکٹر صاحب نے بہت معذرت کی اور معافی مانگی۔دوم دوبارہ اجرا اس طرح سے ہوا کہ میں نے لکھا کہ آپ بھیجد یں۔میں پیش کرونگا۔امید ہے که حضرت واپس نہ کریں گے۔سوالیسا ہی ہوا۔سوم انہی ایام میں خلیفہ رجب الدین صاحب کا لڑکا یہاں خط لے کر آیا تھا۔درس میں وہ خط پیش ہوا۔بہت سے آدمی موجود تھے۔سب کے سامنے حضرت نے جواب میں لکھوایا کہ خلیفہ صاحب! آپ ہمارے دوست تھے۔مگر آپ بھی منافقوں کے ساتھ مل گئے۔یہ امر واقعہ ہے۔درس میں بہتوں نے سنا۔اس کے بعد جب ٹریکٹ اظہار حق کے ساتھ اتفاق کا مضمون پیغام میں نکلا۔تو سخت ناراض ہوئے اور پیغام کے پرچے پر لکھا کہ ہمیشہ کے لئے بند۔اور مجھے حکم دیا کہ اب میرے پاس نہ آوے۔احباب پیغام کو اطلاع دی گئی۔انہوں نے پھر بھی معافیاں مانگیں اور حضرت کو راضی کرنے کی کوشش کی۔مگر پیغام بند رہا۔اور آپ کے آخری دم تک بند رہا۔سکا اب ہم اس بحث کوختم کرتے ہیں۔اگلے باب میں انشاء اللہ حضرت خلیفہ اسے اول کے ان عظیم الشان تعمیری کاموں کا ذکر کیا جائے گا۔جو حضور نے اپنے عہد خلافت میں سرانجام دیئے۔بڑھاپے میں گورکھی پڑھنے کی کوشش، انداز اکتو برس حدیث میں آتا ہے اطلبوا العلم من المهد الى اللهد - حضرت خلیفة المسیح الاول اس پر صحیح طور پر عامل تھے۔پیچھے ہم ایک جگہ بیان کر چکے ہیں کہ کشمیر کی ملازمت کے دوران میں شاہی طبیب کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہونے کے باوجود آپ نے ایک معمولی پنڈت سے آیور ویدک طب پڑھنا شروع کر دی تھی۔اور اس پنڈت کی آپ بہت عزت کیا کرتے تھے۔ایڈیٹر صاحب اخبار "نور" ۱۷/۲۴ کے پرچہ میں لکھتے ہیں کہ تقریبا چھ ماہ کی بات ہوگی کہ حضور نے مجھے فرمایا کہ ہم گرنتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔اردو میں نہیں گور رکھی میں۔مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں تمہارے پاس جا سکوں۔تم مجھے گورکھی پڑھا دو۔چنانچہ حضور نے اردو اور گورکھی ہر دو گرنتھ منگوائے اور باقاعدہ گور کبھی پڑھنا شروع کی۔دو چار روز میں حضور نے خاصی مہارت پیدا کر لی۔اگر آپ کو کچھ موقع ملتا۔تو اس میں کلام نہیں کہ آپ گرنتھ پر