حیاتِ نور

by Other Authors

Page 667 of 831

حیاتِ نور — Page 667

ـور حضرت اقدس کی طرف سے کم از کم دو عالم دین ممبر مقرر کرنے کی ہدایت ہے۔تو یا تو وہ متفقہ طور پر فتوئی دینگے یا الگ الگ ، دونوں صورتوں میں ان کا فتوی انجمن کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔اور اگر کہو کہ وہ فتوی انجمن کے تمام ممبروں کے سامنے پیش ہوگا اور کثرت رائے سے فیصلہ ہوگا۔تو اس صورت میں وہ فتویٰ علما سلسلہ کی طرف منسوب نہیں ہو سکے گا۔انجمن کی طرف منسوب ہوگا۔جسے فتویٰ کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور اگر یہ سوال ہو کہ علماء نے اگر فتویٰ نہیں دینا تو پھر ان کو انجمن کا ممبر بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے انجمن کے سامنے کسی وقت کوئی ایسا انتظامی سوال آ جائے۔جس میں کسی عالم دین کی رہنمائی ضروری ہو۔وسوسه نمبر ۶ جواب کو بھولی بھالی قوم کو اندھیرے میں رکھا جائے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ جب صدر انجمن کے بزرگ اراکین کی غفلت سے ساری قوم صرف جناب مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر مجبور ہو گئی اور بانی سلسلہ کی وفات کے اضطراب میں الوصیت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے فدائی قوم کے پرزور علمی مضامین کا تہلکہ احمدی و غیر احمدی دنیا میں مچا ہو اتھا۔اس وقت ہر کہ ومہ کی زبان پر یہی کلمہ جاری تھا کہ جناب مولوی نورالدین صاحب کا حقیقی جانشین اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ صرف 66 مولوی محمد علی ہے۔سہارا دکھ ٹریکٹ لکھنے والے کو یہ ہے کہ حضرت خلیفہ انہی اول نے اپنے بعد خلافت کی وصیت جناب مولوی محمد علی صاحب کے حق میں کیوں نہ کر دی۔کیونکہ یہ اس کے نزدیک زیادہ اہل تھے۔مگر اسے معلوم نہیں کہ خلافت ایک روحانی منصب ہے جو کسی کی ظاہری کوشش اور جد و جہد سے حاصل نہیں ہوسکتا۔بلکہ خلیفے خدا تعالیٰ خود بنایا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک چونکہ مولوی محمدعلی صاحب خلافت کے اہل نہیں تھے۔اس لئے وہ نہ بن سکے اور حضرت خلیفہ اسیح اول کے دل میں بھی ان کی نسبت خیال پیدا نہ ہوا۔اور معترض کا یہ کہنا کہ اس وقت ہر کہ ومہ کی زبان پر یہی کلمہ جاری تھا کہ جناب مولوی نور الدین صاحب کا حقیقی جانشین اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ صرف مولوی محمد علی ہے۔بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔