حیاتِ نور

by Other Authors

Page 668 of 831

حیاتِ نور — Page 668

ـور ۶۶۳ اگر ایسا ہوتا تو کیوں ساری جماعت جو اس وقت قادیان میں موجود تھی۔اور جس کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی۔سب نے سوائے چار پانچ آدمیوں کے متفقہ طور پر سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور مولوی محمد علی صاحب کا کسی شخص نے نام بھی نہ لیا۔کیا جماعت کے اس عمل سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مولوی محمد علی صاحب خلافت کے اہل نہیں تھے۔معترض کو معلوم ہونا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب وہ شخص تھے۔جن پر حضرت خلیفہ المسح اول ناراض رہنے کے باوجود مہربان رہے۔یہ آپ کا رحم و کرم تھا کہ آپ نے جناب مولوی صاحب کو بعض نازیبا کاروائیوں کی وجہ سے جماعت سے خارج نہیں کیا۔اور صرف دوبارہ بیعت لینے پر ہی اکتفا کی۔اب آپ ہی بتائیے کہ کیا ایسا شخص جو خلیفہ وقت کے مسلسل زیر عتاب رہا ہو۔جماعت ہاں بچے اور مخلص مومنوں کی جماعت کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی گوارا کر سکتی ہے کہ اسے اس خلیفہ کا جانشین تسلیم کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت کرلے۔ہم احمدی لوگ جن کا تعلق قادیان کے ساتھ ہے ہم تو ایسا نہیں کر سکتے۔بلکہ ہمارے تو ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں آسکتی۔البتہ آپ لوگ اگر اپنے امیر کے زیر عتاب رہنے والے کسی شخص کو اس کی وفات کے بعد امیر بنالیں۔تو آپ لوگوں کو ہم ایسا کرنے سے روک نہیں سکتے۔کیونکہ نظر اپنی اپنی پسند اپنی اپنی۔بھائیو ذراغور تو کرو۔ان وسوسہ اندازوں میں حضرت خلیفہ مسیح اول کے خلاف بھی جن کو یہ اپنا ! امام اور پیشوا مانتے تھے۔کس قدر بغض اور کینہ بھرا ہوا تھا کہ آپ کا نام لیتے ہیں۔تو لکھتے ہیں جناب مولوی نورالدین صاحب۔اور اس کے ساتھ ہی اگلی سطر میں جناب مولوی محمد علی صاحب کا نام لکھنا ہو تو لکھتے ہیں۔حضرت مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے فدائی قوم ! انا للہ وانا الیہ راجعون۔کیا ایسے لوگوں سے کسی انصاف کی توقع ہو سکتی ہے؟ وسوسہ نمبرے ( مولوی محمد علی صاحب کے۔ناقل ) " حاسدوں نے اپنی کاروائی حضرت بیوی صاحبہ (ام المومنین) کے ذریعہ شروع کی۔اور بیوی صاحبہ نے مولوی نورالدین صاحب سے صاف کہہ دیا کہ آپ کے ہاتھ پر تو ہم بیعت کر چکے ہیں۔مگر کسی رزیل اور ار ا ئیں وغیرہ کے ہاتھ پر ہم ہرگز بیعت نہیں کریں گے۔جس پر مولوی نورالدین صاحب نے ان کی حسب مرضی جواب دے کر ٹال دیا۔اس کے بعد ہر جائز و ناجائز کوشش انجمن کے معاملات میں دخل دینے اور