حیاتِ نور — Page 626
هشت ۶۲۱ تمہارے بڑے بڑے کام ہوں گے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور پھر میں ہنس پڑا۔جب امتحان دے کر واپس قادیان پہنچا۔تو حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا۔سناؤ میاں! کوئی خواب آئی ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور ! یہ خواب آئی ہے۔فرمایا۔تم یقینا یو نیورسٹی بھر میں اول نمبر پر پاس ہو گے۔میں نے کہا حضور ! یہ بات تو ناممکن نظر آتی ہے۔فرمایا۔تم میرے ساتھ شرط کرلو۔میں نے عرض کی۔حضور ! شرط تو جائز نہیں۔فرمایا۔ہم جائز کرلیں گے۔اگر تم نے اوّل پوزیشن حاصل کرلی تو پچاس روپے میرے یتیم خانہ میں دیدینا۔بصورت دیگر میں پچاس روپے تم کو دیدوں گا۔ان دنوں امتحانوں کے نتائج تین چار روز کے بعد ہی نکل آیا کرتے تھے۔یہ باتیں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے مطب میں ہو رہی تھیں۔جب باہر نکلا تو میاں شیخ محمد صاحب چٹھی رساں نے مجھے اونچی آواز میں مبارک باددی اور کہا کہ میاں ! آپ یو نیورسٹی بھر میں اول نمبر پر پاس ہوئے ہیں۔پندرہ میں تاریں بھی مجھے دیں۔جو میرے دوستوں نے میرے نام بھیجی تھیں۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ـور یہ نتیجہ چونکہ میری توقع کے بالکل خلاف تھا۔اس لئے اطمینان قلب کے لئے میں لا ہور گیا۔جب وہاں بھی اس نتیجہ کو درست پایا۔تو بہت ہی خوشی ہوئی“ حضرت مرزا صاحب موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول نے یہ بات بھی بیان فرمائی تھی کہ میاں تہجد پڑھنے سے تمہارے بڑے بڑے کام ہوا کریں گے۔آپ کے اس قول کو بھی میں نے اپنی زندگی میں آزمایا ہے۔جب بھی میں نے تہجد میں کسی امر کے لئے دعا کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے میرا وہ کام کر ہی دیا ہے د فالحمد للہ علی ذالک آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کا ذکر خیر ہئی۔جون ۱۹۱۳ ء جن ایام کا ذکر ہو رہا ہے۔ان ایام میں آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب صدر جنرل اسمبلی ہو۔این او قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے لئے ولایت تشریف لے گئے ہوئے تھے اور جب بھی آپ کو موقع ملتا۔آپ تبلیغ اسلام واحمدیت کے سلسلہ میں غیر مسلموں کو کلمہ حق پہنچانے میں