حیاتِ نور

by Other Authors

Page 627 of 831

حیاتِ نور — Page 627

۶۲۲ >> کبھی کو تا ہی نہ فرماتے۔حضرت خلیفہ المسیح اول کے ساتھ آپ باقاعدگی کے ساتھ خط و کتابت رکھتے اور اپنی مساعی جمیلہ سے حضور کو آگاہ رکھ کر ہدایات حاصل کرتے رہتے۔چنانچہ اس وقت آپ کی جس چٹھی نے خاکسار کو یہ حروف لکھنے پر آمادہ کیا ہے وہ چٹھی حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں لکھی گئی ہے۔اور بدر میں شائع ہو چکی ہے۔اس میں آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں لکھا ہے کہ آپ سوئٹزرلینڈ اور المانیہ کی سیر کے لئے گئے ہوئے تھے کہ راستے میں دو امریکن خواتین سے ملاقات ہوئی۔جو ہسپانیہ، مراکش مصر اور ارض مقدس کی سیر سے واپس آ رہی تھیں۔انہوں نے آپ سے اسلام اور قرآن کریم سے متعلق بعض سوالات کئے۔مثلا یہ کہ بہشت میں کیا ملے گا؟ اس سوال کے جواب میں جب آپ نے بہشت کی فلاسفی احمدی نقطہ نگاہ سے بیان کی۔تو انہوں نے حیران ہو کر کہا کہ عام مسلمانوں کا تو بہشت کے متعلق یہ عقیدہ نہیں۔مثلاً مصر میں ہم نے اپنے ترجمان سے دریافت کیا کہ موت کے بعد تم کس چیز کی امید رکھتے ہو۔تو اس نے کہا کہ مجھے تو بارہ بیبیاں مل جائیں گی اور بس۔پھر قرآن کریم کی ترتیب سے متعلق سوال کیا۔اس کے جواب میں آپ نے ان کے مذہب عیسائیت کو مد نظر رکھ کر سورہ والتین کا ترجمہ اور آیات کی ترتیب بیان فرمائی۔جسے سن کر انہوں نے خواہش کی کہ ہم اسلام سے متعلق زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔اور کہا کہ کیا آپ اس سلسلہ میں ہماری کچھ مدد کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔اگر تم اپنا پتہ مجھے دیدو تو میں ایک چھوٹی سی کتاب تمہیں بھیجدوں گا۔جس سے اسلام کے اصول تمہیں معلوم ہو جائیں گے۔چنانچہ ان سے پتہ حاصل کر کے آپ نے انہیں دو نسخے Teachings of Islam یعنی اسلامی اصول کی فلاسفی کے بھیجے۔" الفضل کا اجراء، ۱۹؍ جون ۱۹۱۳ء ۱۹ ارجون ۱۹۱۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعتی اور ملکی ضروریات کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح اول کی اجازت حاصل کر کے قادیان سے ایک اخبار الفضل“ جاری کرنا شروع کیا۔جس کی ایڈیٹری کا کام بھی آپ نے خود ہی سنبھالا۔اس پر چہ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی ترقی کی کہ آج یہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا آفیشل آرگن ہے۔اور سلسلہ کی اہم ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔" یہ امرخاص طور پر قابل ذکر ہے کہ الفضل کا نام خود حضرت خلیفتہ اسی اول نے تجویز فرمایا تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ فرماتے ہیں: جب روپیہ کا انتظام ہو گیا۔تو حضرت خلیفتہ اسے اول سے میں نے اخبار کی