حیاتِ نور — Page 556
۵۵۱ ور اللہ پر توکل کرو۔میرا وہ مطلب حاصل ہو گیا ہے۔الحمد للہ کہ راقم الحروف حسن اتفاق سے اس درس میں شامل تھا۔اللہ تعالی اس عاجز کے حق میں بھی حضرت خلیفہ ایسیح کی دعا کو منظور فرمائے۔آمین ثم آمین۔19 اس سلسلہ میں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سید بدرالدین احمد صاحب سونگھڑہ نے ایک دفعہ الفضل میں اپنے دادا حضرت مولوی سید سعید الدین احمد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں صحابیت کے علاوہ ایک فخر یہ بھی حاصل تھا کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے درس کے بعد (جس میں وہ بھی شامل تھے ) فرمایا کہ آج کی مجلس میں جس قدر احباب حاضر ہیں مجھے بذریعہ کشف اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ سب کے سب جنتی ہیں"۔"۔الفضل میں اس ذکر کے شائع ہونے پر محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے جو خود اس مجلس میں موجود تھے اس کی تفصیل الفضل کے ذریعہ شائع کر دی جو نہایت ایمان افروز ہے۔محترم ملک صاحب تحریر فرماتے ہیں: " سید بدرالدین احمد صاحب سونگھڑوی نے اخبار الفضل مؤرخہ ۲۶ راگست ۱۹۴۸ء کے پرچہ میں اپنے والد مرحوم سید اختر الدین احمد صاحب کے حالات زندگی لکھتے ہوئے اپنے دادا سید سعید الدین صاحب مرحوم کے متعلق لکھا ہے کہ ایک مرتبہ جب وہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کی درس کی مجلس میں موجود تھے تو حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ کشف مجھے بتلایا ہے کہ آج کی تیری اس مجلس میں جس قدر لوگ ہیں وہ سب کے سب جنتی ہیں۔وہ مجلس جس میں یہ واقعہ ہوا اس میں میں بھی شریک تھا۔اس لئے میں تفصیل کے ساتھ اس خیال سے اس واقعہ کو لکھتا ہوں کہ تا یہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں محفوظ رہے۔کیونکہ میرے علم کے مطابق آج تک کسی دوست نے اس عظیم الشان واقعہ کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔غالباً ۱۹۱۲ء کی بات ہے سردی کے دن تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنی اس بیٹھک میں جس کی پشت احمد یہ بازار کے اس حصہ میں تھی جو احمد یہ چوک سے ہو کر دفتر بکڈ پوتک جاتا ہے اور جس کو بعد میں اس دکان میں تبدیل کر دیا گیا۔جس میں گزشتہ سالوں میں ڈاکٹر محمد اسمعیل