حیاتِ نور — Page 557
ـور ۵۵۲ صاحب ابن مولوی قطب الدین صاحب اپنی ڈاکٹری کی دکان کرتے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد صاحبزادہ میاں عبدالحی مرحوم کو درس قرآن دیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی یہ عادت تھی کہ اپنے درس میں گزشتہ بزرگوں کے واقعات زندگی بہت بیان فرمایا کرتے تھے۔شام کے درس میں ایک دن آپ نے غالباًا حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کے تعلق باللہ کے متعلق کچھ واقعات بیان فرمائے۔ان واقعات میں آپ نے یہ واقعہ بھی بیان فرمایا کہ ایک دفعہ شاہ صاحب مجلس میں تشریف فرما تھے کہ یک لخت ان پر کشفی حالت طاری ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ جتنے لوگ اس وقت تیری مجلس میں موجود ہیں اگر تو ان کے لئے دعا کرے گا تو وہ سب کے سب جنت میں جائیں گے۔شاہ صاحب نے اس وقت اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ جتنے لوگ اس وقت میری مجلس میں موجود ہیں انہیں گن لو۔حاضرین مجلس کی اس مردم شماری کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور بعد دعا فرمایا کہ پھر سب لوگوں کو گن لیا جائے۔حاضر احباب کا شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ تعداد اتنی ہی ہے جتنی پہلی گنتی کے وقت تھی۔لیکن اتفاق سے اسی وقت مجلس کے بعض لوگوں کی نظر ایک اجنبی شخص پر پڑی جو پہلی گنتی کے وقت مجلس میں موجود نہ تھا۔لوگ حیران تھے کہ ایک نیا شخص بھی مجلس میں موجود ہے۔اور حاضرین مجلس کی تعداد بھی اتنی ہی ہے جتنی پہلی گنتی کے وقت تھی کہ اتنے میں شاہ صاحب کے مریدوں میں سے ایک شخص جو پہلی گفتی کے وقت مجلس میں موجود تھا باہر سے اندر داخل ہوا۔اس سے جب پوچھا گیا کہ تم کہاں گئے تھے اس نے جواب میں کہا کہ عین دعا کے وقت مجھے رفع حاجت کے لئے باہر جانا پڑا۔اس اجنبی شخص سے جب پوچھا گیا کہ میاں ! تم یہاں کیسے آگئے تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک مسافر آدمی ہوں یہاں سے گزر رہا تھا کہ میں نے دیکھا دعا ہو رہی ہے میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مجھے بھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جتنے لوگ اس وقت تیری مجلس میں بیٹھے ہیں اگر تو ان کے لئے دعا کرے گا تو یہ بھی سب جنت میں جائیں گے اس وقت آپ نے فرمایا کہ کوئی