حیاتِ نور — Page 554
بت کو فر مایا کہ ۵۴۹ " مجھے تو وہ ( اللہ تعالیٰ) بہت ہی پیارا ہے۔(اس نے مجھے۔ناقل ) دو کام بتائے ہیں۔تواضع اور انکساری۔اس کی بچوں کو تاکید کرو۔اور ان کو وعظ کرو کہ بدکاریوں سے بچیں۔۱۰۸ ـور اب دیکھ لو۔یہاں صاف طور پر پیارا " سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ بریکٹ میں ایڈیٹر کی طرف سے دیئے گئے ہیں اور اگلا فقرہ بھی اسی کی تائید میں ہے کہ دو کام بتائے ہیں۔تواضع اور انکساری یہ دونوں کام یقینا اللہ تعالیٰ ہی نے بتائے تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے ہر گز نہیں بتائے۔میرا خیال ہے اگر ایڈیٹر صاحب الحکم بریکٹ میں اللہ تعالیٰ کے الفاظ نہ لکھتے اور اگلا فقرہ بھی درج نہ فرماتے تو غیر مبائعین یہاں بھی پیار سے مراد مولوی محمد علی صاحب کو ہی لے لیتے۔ایک خاص درس میں شامل ہونے والوں کے لئے دُعا حضرت مولوی محمد عبد الله صاحب بوتالوی والد محترم مکرم و محترم مولوی عبد الرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکریٹری حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک نہایت ہی بزرگ صحابی تھے۔آپ کی عادت تھی کہ جب بھی ملازمت سے رخصت لے کر قادیان میں حاضر ہوتے۔حضرت خلیفة المسیح اول کا درس بڑی باقاعدگی کے ساتھ نوٹ فرماتے اور بدر میں بھی اشاعت کے لئے دے دیتے۔ذیل میں آپ کے لکھے ہوئے ایک درس کے نوٹ درج کئے جاتے ہیں جن سے احباب کو اس امر کا اندازہ لگانے میں بڑی مدد ملے گی کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کس شان کے انسان تھے۔اور آپ " کے درس میں شامل ہونے والے لوگ کتنے خوش نصیب تھے۔آپ لکھتے ہیں: موکرخده ار مارچ ۱۹۱۳ ء نماز مغرب کے بعد حسب معمول صاحبزادہ حضرت ١٩١٣ خلیفہ المسیح میاں عبدالحئی صاحب قرآن شریف کا سبق پڑھ رہے تھے اور ایک کثیر تعداد دیگر طالب علموں کی بھی موجود تھی جو کہ روزانہ اس درس میں شریک ہوا کرتے تھے۔اثنائے درس میں میاں شریف احمد صاحب صاحبزاده خورد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی ضرورت کے واسطے باہر جانے لگے تو حضرت خلیفہ امسیح نے فرمایا کہ جلدی واپس آنا۔پھر فرمایا کہ شاہ عبدالرحیم * ایک بزرگ تھے۔ان کو خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ گنو! اس وقت کتنے آدمی موجود ید یعنی والد ماجد حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی