حیاتِ نور

by Other Authors

Page 549 of 831

حیاتِ نور — Page 549

ــاتِ نُور ۵۴۴ مرزا صاحب کے بعد خلیفہ کیا۔ان الفاظ میں حضور نے واشگاف الفاظ میں یہ بتا دیا ہے کہ میں اس طرح کا خلیفہ ہوں۔جس طرح کے خلفاء حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما تھے۔یعنی میری خلافت آیت استخلاف کے ماتحت ہے۔پس غیر مبائعین کا یہ مسلک بھی غلط ثابت ہو گیا کہ آپ کی خلافت آیت استخلاف کے ماتحت نہیں تھی۔آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ لاہور کا کوئی آدمی نہ میرے امر خلافت میں روک بنا ہے۔نہ بن سکتا ہے۔پس تم ان پر بدظنی نہ کرو۔اس کے بعد فرمایا کہ میں ایسا اعتراض کرنے والوں کو کہتا ہوں کہ یہ بدلتی ہے۔اس کو چھوڑ دو۔تم پہلے ان جیسے اپنے آپ کو مخلص بناؤ۔لاہور کے لوگ مخلص ہیں۔حضرت صاحب سے انہیں محبت ہے۔ساتھ ہی فرمایا: دو غلطی انسان کا کام ہے۔اس سے ہو جاتی ہے۔مگر ان لوگوں نے جو کام کئے ہیں تم بھی کر کے دکھاؤ۔یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت خلیفہ لمسی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے امر خلافت میں روک ڈالنے کی کوشش کی۔مگر یہ ان کی ایک غلطی تھی۔جو ان سے سرزد ہوئی۔لہذا اب اس معاملہ میں ان پر اعتراضات ہی کرتے چلے جانا صحیح نہیں۔اس کے بعد ان لوگونکے ان کاموں کی تعریف فرمائی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کئے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں اخلاص کے ساتھ کام کیا۔ہم اس کا کھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں۔اور ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیتے۔مگر جو خطر ناک غلطی انہوں نے خلافت اولی میں کی۔اور جماعت کی وحدت کو محض اس لئے پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی۔کہ خلافت کی وجہ سے جس اقتدار کا خواب یہ لوگ دیکھ رہے تھے۔وہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔اس غلطی کو ہم کہاں لے جائیں۔رہا یہ امر کہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے ان کے حق میں بعض تعریفی کلمات فرمائے ہیں اور جماعت کو نصیحت کی ہے کہ اب پیچھا چھوڑ دو۔یہ تو بات ان کے حق میں نہیں جاتی۔کیونکہ حضرت کی