حیاتِ نور — Page 515
ــور " ۵۱۰ اقصیٰ میں تشریف لے گئے اور خطبہ جمعہ پڑھا۔اور نماز پڑھائی۔اس پر جماعت کو جس قدر خوشی ہوئی۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ "بدر" نے چار مرتبہ مبارک ! مبارک ! مبارک ! مبارک! کی سرخی قائم کر کے جماعت کو یہ خوشی سنائی۔کہ اب حضرت خلیفہ امر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے صحت یاب ہو گئے ہیں۔حضور کے معالج ڈاکٹر کرم الہی صاحب پنشن میڈیکل ایڈوائز رصد رانجمن نے بڑے جوش کے ساتھ قوم کو صدقات کی تحریک کی۔اور اسی وقت دس روپے اپنی طرف سے پیش کر کے اس مبارک کام کا افتتاح کیا۔۲۸ ا حکم نے اس موقعہ پر ایک غیر معمولی پر چہ شائع کیا۔جس میں لکھا کہ وارمئی 1911ء کا جمعہ احمدی سلسلہ کی تاریخ میں اسی طرح یادگار رہے گا۔جس طرح پر ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کا جمعہ۔۱۸ نومبر جمعہ وہ تھا جس روز حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہ العالی اپنے سید و مولی آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے ما تحت گھوڑے سے گرے۔اور جس واقعہ نے نہ صرف احمدی قوم کو بلکہ ان تمام لوگوں کو جو حضرت خلیفہ المسیح کی نافع الناس شخصیت سے تعلق رکھتے تھے۔ایک سخت کرب و غم میں ڈالدیا۔تشویش اور بھی بڑھ گئی۔جبکہ حضرت کی صحت یو ما فیوم معرض خطر میں پڑنے لگی۔ان حالات کے درمیان پٹیالہ کے کانے دجال کی پیشگوئی پر عام طبقوں کا متوجہ ہونا کوئی بڑی بات نہ تھی۔مگر اللہ تعالٰی نے ار جنوری 1911ء کو مرتد ڈاکٹر کا کذب ثابت کر دیا۔اور حضرت خلیفتہ اسی کو احمدی قوم کی تربیت اور عوام کی فیض رسانی کے لئے زندہ رکھا۔اور اس کلیہ کو ثابت کردیا کہ اَمَّامَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ۔۔۔۔يوم جمعه ۹ ارمنی ۱۹۱ ء احمدی قوم کے لئے خصوصا عید کا دن تھا۔میں اس مبارک تقریب پر تمام قوم کو مبارک باد دیتا ہوں۔اور یہ موقعہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو مبارکباد دیں۔کیونکہ ہمارے لئے یہ دن عید سے کم نہیں۔اور ہمارا ہلال چھ ماہ کے بعد طلوع ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اسی ممبر پر چڑھے تو میری زبان سے بے اختیار نکلا۔طلع البدر علينا من ثنيئة الوداع یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا۔جو آج پورا ہوا۔غرض خدا کا شکر ہے کہ ہمیں اپنے امام کے منہ سے پھر خطبہ سننے کا موقعہ ملا۔۳۹