حیاتِ نور — Page 516
All سيدة امتہ الحفیظ بیگم کی آمین ، جون ۱۹۱۱ء کا کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی سیدۃ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے جب قرآن ختم کیا۔تو آپ کی آمین کی تقریب پر "بدر" نے حسب ذیل نوٹ چو کٹھے میں نمایاں کر کے شائع کیا: آمین امتہ الحفیظ بنت حضرت جری ال في حلل الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء نے قرآن مجید ختم کر لیا ہے۔اس مبارک تقریب پر بطور شکرانه نعمت۔۔۔۔۔دعوت احباب قرار پائی ہے۔جناب ناصر نواب صاحب قبلہ اور مخدوم و مکرم صاحبزادہ محمود احمد صاحب نے حضرت اقدس کی طرز پر آمین لکھی ہے۔گویا ایک دستر خوان پر روحانی و جسمانی فائدہ سے متمتع ہونا موجب فرحت بیکران و مسرت بے پایاں ہوگا۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان نبوت میں قرآن مجید سمجھنے والے اور پھر اس کے مبلغ پیدا کرتا رہے۔اور وہ ایک دنیا کے لئے ہادی و رہنماو پیشوا بنیں۔اللہم آمین۔۵۰ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے میموریل چونکہ گورنمنٹ برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ۱۲؍ دسمبر 19ء کو ہندوستان کے دارالخلافہ دہلی میں جارج پنجم شاہنشاہ ہند کی رسم تاجپوشی ادا کی جائے۔اس لئے حضرت خلیفہ المسیح اول نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر ایک میموریل تیار کیا۔جس میں وائسرائے ہند کی معرفت شاہ جارج پنجم سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے دو گھنٹہ کی رخصت عنایت فرمائی جایا کرے۔اس میموریل کا خلاصہ حضور کے الفاظ میں درج ذیل ہے: جمعہ کا دن اسلام میں ایک نہایت مبارک دن ہے۔اور یہ مسلمانوں کی ایک عید ہے۔بلکہ اس عید کی فرضیت پر جس قدر زور اسلام میں دیا گیا ہے۔ان دو بڑی عیدوں پر بھی زور نہیں دیا گیا۔جن کو سب خاص و عام جانتے ہیں۔بلکہ یہ عید نہ صرف عید ہے بلکہ اس دن کے لئے قرآن کریم میں یہ خاص طور پر حکم دیا گیا ہے۔کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ کر مسجد میں جمع ہو جاؤ۔جیسا کہ فرمایا: