حیاتِ نور

by Other Authors

Page 30 of 831

حیاتِ نور — Page 30

طبی امتحانات میں کامیابی آپ فرماتے ہیں کہ میں نے مفرد اور مرتب ادویہ کے متعلق حکیم صاحب سے کبھی سوال نہ کیا تھا کہ یہ مرکب کس طرح بنتا ہے یا اس مفرد کا کیا نام ہے؟ کیونکہ مرکبات کے واسطے میں یقین کرتا تھا کہ قرابادینوں کا مطالعہ کافی ہوگا اور مفردات کے ناموں میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ممکن ہے ایک چیز کا نام اس ملک میں کچھ اور ہو اور پنجاب میں کچھ اور۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ ایک روز مجھ سے حکیم صاحب نے سنکھیا اور سُرخ مرچ کے متعلق سوال کیا کہ تم اس کو مفردات سے کس طرح نکالو گے۔میں نے اپنے مطالعہ کی عادت کے باعث جلد اس کا جواب حاصل کر لیا جس پر وہ مطمئن ہو گئے"۔دوسری بات نسخہ نویسی کے متعلق تھی۔حکیم صاحب چاہتے تھے کہ آپ نسخے لکھا کریں مگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے تھے۔جس وقت آپ دیکھتے کہ بیمار زیادہ تعداد میں آگئے ہیں اور اب سبق پڑھنا مشکل ہے آپ اُٹھ کر دوسرے اساتذہ کے پاس چلے جاتے۔ایک دن مزمن ماشرہ میں مبتلا ایک مریض آیا۔اس کا سر ہاتھی کے سر کی مانند موٹا ہو گیا تھا۔اور ہونٹوں اور آنکھوں کی شکل بھی بڑی بھیا تک تھی۔آپ دو تین روز قبل اس مرض کے حالات کا مطالعہ کر چکے تھے مگر مریض کو دیکھ کر سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ماشرہ ہے۔ادھر حکیم صاحب نے فرمایا کہ اس کا نسخہ لکھ دو سخت گھبراہٹ میں طبیعت دُعا کی طرف راغب ہوئی۔معا حکیم صاحب نے بیساختہ فرمایا کہ ایسے ماشرہ دُنیا میں کم دیکھنے میں آتے ہیں۔اب یہ تو پتہ لگ گیا کہ اس مرض کا نام ماشرہ ہے مگر نسخہ تجویز کرنے کے لئے کتابوں کا مطالعہ ضروری تھا۔آپ نے عرض کی کہ اس کے ساتھی اس کو اپنے مکان پر چھوڑ آئیں اور پھر آ کر نسخہ لے جائیں۔چنانچہ آپ نے اپنے کمرہ میں جا کر حکیم صاحب کی زیر نظر کتابیں شرح گیلانی قانون پر، ترویج الارواح طبری اور مجموعہ بقائی دیکھ کر ایک نسخہ ضماد اور طلاء اور کھانے کا لکھ لیا اور حکیم صاحب کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔تیماردار جب نسخہ لینے آیا تو حکیم صاحب نے آپ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ نے نسخہ لکھا ہے؟ عرض کیا ابھی لکھ دیتا ہوں۔نسخے یاد تو تھے ہی فورا قلم اٹھایا اور لکھ کر حکیم صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔حکیم صاحب نے نسخے دیکھ کر ـور