حیاتِ نور — Page 31
فرمایا که شرح گیلانی ، ترویح اور مجموعہ بقائی لاؤ۔حکیم صاحب نے کتابوں پر ایک نظر ڈال کر نسخے تیماردار کو دے دیئے۔حکیم صاحب کو وہ نسخے دیکھ کر اس قدر خوشی ہوئی کہ فورا اُٹھے اور اپنی بیاض لا کر بڑی محبت سے آپ کی خدمت میں پیش کی اور فرمایا کہ تم اس کے اہل ہو۔آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ سوچ کر کہ میں نسخوں کو لے کر کیا کروں گا کتاب و ہیں چھوڑ دی۔کسی دوسرے وقت جب حکیم صاحب تشریف لائے تو بیاض کو وہیں پڑا دیکھ کر فرمایا کہ بیاض تو یہیں پڑی ہے تم نے اُسے سنبھالا نہیں۔میں نے عرض کی کہ میں اس کو کیا کروں۔نسخہ لکھنا تو تشخیص پر منحصر ہے اور اس میں تشخیص کوئی نہیں۔اس پر حکیم صاحب نے متبسم ہو کر کہا کہ بات تو ٹھیک ہے۔ایک مرتبہ حکیم صاحب نے فرمایا کہ تم شرح اسباب کسی کو ہمارے سامنے پڑھاؤ۔جس کو آپ نے بطیب خاطر پسند کیا اور ایک شخص مولوی محمد اسحاق ساکن نگینہ کو شرح اسباب حکیم صاحب کے سامنے کامیابی کے ساتھ پڑھائی۔منبتی پڑھانے سے مفتی سعد اللہ کی بے اعتنائی پر آپ کا رد عمل ایک مرتبہ تبتی پڑھنے کے لئے آپ مفتی سعد اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر مفتی صاحب نے روکھے الفاظ میں عدیم الفرصتی کا عذر کیا۔آپ نے فرمایا اچھا! اب ہم اسی وقت آپ سے پڑھیں گے جب آپ ہماری منت کریں گے۔مکان پر واپس آکر آپ نے محترم حکیم صاحب سے عرض کی کہ حضرت! علم حاصل کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ فرمایا کہ علم سے اخلاق فاضلہ پیدا ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی پوچھا کہ بات کیا ہے؟ عرض کی کہ مفتی سعد اللہ کی خدمت میں متنبتی پڑھنے کے لئے حاضر ہوا تھا۔انہوں نے روکھے پن سے کہا کہ ہم کو فرصت نہیں۔حکیم صاحب نے اسی وقت مفتی صاحب کے نام رقعہ لکھا کہ جب آپ کچہری سے فارغ ہوں تو اسی راستہ سے گھر تشریف لے جائیں اور آپ کو کہا کہ آپ ایک کوٹھڑی میں چلے جائیں۔جب مفتی صاحب تشریف لائے تو حکیم صاحب نے فرمایا۔مفتی صاحب ! اگر ہم آپ سے کچھ پڑھنا چاہیں تو آپ کچھ وقت نکال سکیں گے۔مفتی صاحب نے بڑے زور شور سے کہا کہ کیوں نہیں۔ہم ہر وقت آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔فرمایا۔اگر کوئی ہمارے پیرومر شد پڑھنا چاہیں تو پھر ! مفتی صاحب بولے اُن کو تو جہاں وہ چاہیں ہم خود جا کر پڑھا دیا کریں گے۔تھوڑی دیر کے بعد حکیم صاحب نے آپ کو بلوایا۔آپ کو دیکھ کر مفتی صاحب ہنس پڑے اور کہا کہ آؤ صاحب ! اب ہم آپ کی منت کرتے ہیں کہ آپ پڑھیں۔آپ فرماتے ہیں کہ گو میں نے مفتی