حیاتِ نور

by Other Authors

Page 402 of 831

حیاتِ نور — Page 402

اتِ نُ ور ۳۹۹ گو حضرت مفتی صاحب کی روایت کے مطابق محمود احمد کی بجائے خلیفہ محمود اندر لکھا ہوا تھا۔لیکن اس بات سے نفس مضمون میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔یہ ایسی یقینی بات ہے کہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو بھی مسلم ہے جیسا کہ او پر حوالہ درج کیا جا چکا ہے۔بعد میں چونکہ حضور کی طبیعت اللہ تعالٰی کے فضل سے سنبھل گئی۔اس لئے آپ نے یہ وصیت کے واپس لے کر پھاڑ دی۔کے چونکہ مضمون یہ چل پڑا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول واللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ آپ کے بعد خلافت کا بلند منصب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو عطا ہو گا۔اس لئے آپ مختلف رنگوں میں جماعت کو یہ امر سمجھاتے رہتے تھے کہ میرے بعد خلیفہ ہونے کے اہل صرف میاں محمود احمد صاحب ہی ہیں۔جیسا کہ گھوڑے سے گرنے کے کچھ دن بعد آپ کی وصیت اور ایک قابل یا دنکتہ سے یہ امر عیاں ہے۔اب ذیل میں بعض اور ایسی باتیں بیان کی جاتی ہیں جن سے اس امر کی مزید تائید ہوتی ہے۔سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ ہی مصلح موعود ہیں حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات سے چھ ماہ قبل حضرت پیر منظور محمد مصنف قاعده سرنا القرآن نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ " مجھے آج حضرت اقدس کے اشتہارات کو پڑھ کر پتہ مل گیا ہے کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کسی خاص طرز سے ملا کرتے ہیں۔اور ان کا ادب کرتے ہیں“۔پیر صاحب موصوف نے یہی الفاظ لکھ کر تصدیق کے لئے پیش کئے تو حضرت خلیفہ اول نے ان پر تحریر فرمایا۔یہ لفظ میں نے برادرم پیر منظور محمد سے کہے ہیں۔نورالدین ار ستمبر ۱۳- ۷۸ مسند احمد بن حنبل کی تدوین کا کام حضرت خلیفۃ السیح لثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: 33 جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے چند ہی دن بعد حضرت خلیفہ المسیح بیمار ہو گئے اور آپ کی علالت روز بروز بڑھنے لگی۔مگر ان بیماری کے دنوں میں بھی آپ تعلیم کا کام